دوستو، سوچیے ایک ایسی لڑکی کا — جس کا نام سنتے ہی لوگ منہ پھیر لیں۔ جس کے وجود کو "منحوس" کہہ کر پکارا جائے۔ جس نے اپنی زندگی میں صرف ایک چیز دیکھی ہو — تنہائی۔ یہ کہانی ہے آجرا کی۔ ایک ایسی لڑکی جو نہ چاہتے ہوئے بھی اس گھر میں آئی، اور جس کے آنے سے پہلے ہی اس گھر نے اسے رد کر دیا تھا۔ شادی کا پہلا دن ہوتا ہے سپنوں جیسا — رنگین، خوشبودار، امیدوں سے بھرا۔ لیکن آجرا کے لیے یہ دن کچھ اور لے کر آیا۔ صبح ہوتی ہے۔ نئے گھر میں پہلا قدم۔ اور کیا ہوتا ہے؟ ایک تھالی میں ناشتہ۔ ساس کی طرف سے — پیار کے ساتھ۔ "بہو، یہ میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔" معصوم سا لگتا ہے نا؟ لیکن دوستو، اس گھر کی ہر بات کے نیچے ایک اور بات چھپی ہوتی ہے۔ ساس کہتی ہے، "آجرا، اب یہ گھر تیرا ہے۔ کام کرو، گھر سنبھالو، اپنے شوہر کا خیال رکھو۔" آجرا سیدھی سیدھی ہاں کہتی ہے۔ وہ نئی ہے اس گھر میں۔ وہ سمجھنا چاہتی ہے۔ لیکن ایک سوال اس کے ذہن میں کھلتا رہتا ہے — وہ "منحوس" والی بات۔ وہ پوچھتی ہے ساس سے: "آنٹی، آپ کل کسی کو منحوس کہہ رہی تھیں — وہ کون تھی؟" اور پھر ساس کی زبان کھلتی ہے۔ "آجرا — تمہارے انکل کی بھانجی۔ اس کے باپ کا انتقال ہوا تو وہ پیدا ہوئی تھی۔ کچھ سال بعد ماں بھی چلی گئی۔ تمہارے انکل اسے لے آئے — کوئی اور تھا نہیں اس کا۔ پھر اس کی ناک نے تمہارے انکل کو بھی کھا لیا۔" ساس ایک لمحہ رکتی ہے، پھر کہتی ہے، "اب شادی ہو گئی — جھنجھٹ ختم۔" دوستو — یہ سن کر دل تھوڑا بھاری ہوتا ہے۔ ایک بچی جو پہلے سے ہی اکیلی تھی، جس کے ہونے پر زندگی نے اسے سزا دی — اسے بھی اپنے گھر سے "جھنجھٹ" کہہ کر رخصت کر دیا۔ کاش یہاں کہانی ختم ہو جاتی۔ لیکن یہ تو بس شروع تھی۔
0:00 / 0:00