یہاں پہلا چونکا دینے والا حقیقت سامنے آتی ہے۔ امریکہ کی کولوراڈو ریاست میں — 1924 میں

یہاں پہلا چونکا دینے والا حقیقت سامنے آتی ہے۔ امریکہ کی کولوراڈو ریاست میں — 1924 میں — کچھ قدیم انسانی پتھریلے نقوش ملے۔ ان نقوشوں میں ایک انسان اور ایک ڈائنوسار — ساتھ ساتھ تصویر میں تھے۔ اسی طرح کی تصویریں — کمبوڈیا کے آنگ کور واٹ مندر میں — جو بارہویں صدی میں بنا — وہاں ایک جانور کا نقش ہے جو ہو بہو Stegosaurus ڈائنوسار جیسا دکھتا ہے۔ یعنی بارہویں صدی کے کمبوڈیائی فنکار نے — جو کبھی کسی ڈائنوسار کی ہڈی تک نہیں پہنچا تھا — اس نے ایک ایسے جانور کی تصویر بنائی جو آج کی سائنس کی تصویر سے مشابہ ہے۔ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔ اور پھر — 1977 میں — جاپانی ماہی گیروں نے بحر الکاہل میں ایک عجیب جانور کی لاش پکڑی۔ اس کی گردن لمبی تھی۔ جسم بہت بڑا تھا۔ چار پنکھ تھے — جیسے سمندری ڈائنوسار "Plesiosaur" کے ہوتے ہیں۔ جاپانی سائنسدانوں نے اسے دیکھا — پیمائش کی — تصویریں لیں۔ پھر انہوں نے لاش واپس سمندر میں پھینک دی۔ کیونکہ یہ بدبو دینے لگی تھی۔ لیکن تصویریں آج بھی موجود ہیں۔ اور آج تک — سائنس اسے کسی معروف جانور سے نہیں ملا سکی۔ کچھ سائنسدان کہتے ہیں — یہ سڑی ہوئی شارک تھی۔ لیکن کچھ کہتے ہیں — یہ کچھ اور تھا۔ اور اگر یہ سچ ہے — تو سوال یہ ہے — اگر سمندر میں آج بھی Plesiosaur جیسے جانور موجود ہو سکتے ہیں — تو کیا ہزاروں سال پہلے — جب دنیا اتنی آباد نہیں تھی — اس وقت یہ جانور آزادانہ گھومتے تھے؟ اور کیا انسانوں نے انہیں دیکھا؟
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio