میں نے اُس کی طرف دیکھا تو محسوس کیا وہ آدمی درد میں بھی لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا جی

میں نے اُس کی طرف دیکھا تو محسوس کیا وہ آدمی درد میں بھی لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے وہ ہر چہرے کو یاد کر لینا چاہتا ہو ۔ کسی نے اُسے ٹھٹھا کیا اگر توں سچ میں بادشاہ ہے تو اپنے آپکو بچا لے ۔ کسی نے کہا دوسروں کو بچانے والے خود کو بچا نہیں رہا ۔ عام طور پر ایسے لفظ قیدی کو اُکسا دیتے ہیں لیکن اس نے جواب نہیں دیا ۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا سانس تیز اور اُکھڑ رہی تھی پر اُس کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہیں تھی ۔ اور یہ سکون مجھے پریشان کررہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا یہ سکون ایسے وقت میں نہیں آتا ۔ کم از کم انسانوں سے تو اس کی توقع کرنا ناممکن ہے۔ خیر تھوڑی دیر بعد میں نے صلیب کے نیچے کھڑی ایک عورت کو دیکھا ۔ جس کی آنکھیں مسلسل اوپر کی طرف ٹکی تھیں اُس کے چہرے پر ایسا درد تھا جو لفظوں میں بھی بیان سے پرے تھا ۔ اس کے ساتھ ایک جوان لڑکا بھی تھا شاید اس کا بیٹا تھا یا کوئی اور اپنا ۔ صلیب پر لٹکے آدمی نے انہیں اوپر سے دیکھا اور دھیمی آواز میں کچھ کہا ۔ میں پاس کھڑا تھا اس لیے وہ لفظ میرے کانوں میں پڑے ۔ وہ اپنی ماں کو اس لڑکے کے حوالے کررہا تھا۔ جیسے موت کے بیچ بھی اس کی پریشانی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے ہو ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کوئی مرتا ہوا آدمی اپنی ہی تکلیف سے زیادہ کسی اور کے مُستقبل کی پریشانی کیسے لے سکتا ہے ? وقت آگے بڑھتا گیا اور سورج کی روشنی اچانک عجیب لگنے لگی۔ آسمان جیسے بُھجنے لگا تھا اور ہوا جیسے ٹھنڈی محسوس ہونے لگی ہو۔ میں نے اپنی زندگی میں بے شمار جنگیں دیکھی اور کئی طوفان جِھیلیں تھے۔ لیکن ایسا اندھیرا کبھی نہ دیکھا تھا۔ دن کے بیچوں بیچ جیسے کسی نے کائنات کو ہی ڈھک دیا ہو۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio