بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اِک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جِس کا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اِک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جِس کا نام اَحْمَد تھا۔ اَحْمَد نہایت سادہ، معصوم اور نیک دل تھا۔ اُس کے والد ایک غریب کسان تھے جو دن رات محنت کرتے مگر پھر بھی گھر کا گزارہ مشکل سے ہوتا تھا۔ اَحْمَد بچپن ہی سے سچ بولنے اور اَمانت داری کی تعلیم پاتا آیا تھا۔ اُس کی ماں اکثر اُسے کہتی: “بیٹا! سچائی اور ایمانداری کبھی نہ چھوڑنا، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔” اِک دن گاؤں میں خبر پھیلی کہ شہر سے ایک بڑا تاجر آیا ہے جو مزدوروں کو کام دے رہا ہے۔ اَحْمَد نے سوچا کہ وہ بھی کام کرے گا تاکہ اپنے والد کی مدد کر سکے۔ وہ صبح سویرے تاجر کے پاس پہنچا۔ تاجر نے اُس سے پوچھا: “تم کیا کام کر سکتے ہو؟” اَحْمَد نے عاجزی سے جواب دیا: “حضور! میں محنت کر سکتا ہوں اور ایمانداری سے کام کروں گا۔” تاجر نے اُس کی سادگی دیکھی اور اُسے اپنے ساتھ رکھ لیا۔ کچھ دن بعد تاجر نے اَحْمَد کو ایک تھیلا دیا جس میں قیمتی سکے تھے۔ اُس نے کہا: “یہ رقم دوسرے شہر لے جا کر میرے ساتھی کو دینا ہے۔ خیال رکھنا، یہ بہت اہم امانت ہے۔” راستہ لمبا تھا اور اکیلا سفر مشکل بھی۔ مگر اَحْمَد نے ہمت نہ ہاری۔ راستے میں اُسے کچھ بد نیت لوگ ملے۔ اُنہوں نے پوچھا: “کہاں جا رہے ہو؟” اَحْمَد گھبرا گیا مگر اُس نے سچ بولنا بہتر سمجھا: “میں ایک امانت لے کر جا رہا ہوں۔” یہ سن کر اُن لوگوں کی نیت خراب ہو گئی۔ اُنہوں نے اُسے روک لیا اور کہا: “ہمیں دکھاؤ کیا لے جا رہے ہو!” اَحْمَد کے دل میں خوف پیدا ہوا مگر اُس نے جھوٹ نہ بولا۔ اُس نے کہا: “یہ امانت ہے، میں اسے کسی کو نہیں دکھا سکتا۔” اُن
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio