SchedarUse these settings →
یقین کرنا مشکل ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ زمین کے ستر فیصد حصے پر پھیلا ہوا سمندر اب تک پوری طرح دریافت نہیں ہو سکا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 'وہی ہے جس نے زمین میں تمہارے لیے سب کچھ پیدا کیا'۔ ہم نے چاند پر قدم رکھ لیا، مریخ کی مٹی چھان لی، لیکن اپنے ہی سیارے کا سب سے بڑا راز آج بھی پردے میں ہے۔ اگر کوئی انسان یا روبوٹ مسلسل سمندر کے نیچے جاتا رہے، تو سب سے پہلے روشنی ساتھ چھوڑ دے گی ۔ چند سو میٹر کے بعد مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اللہ نے اسی منظر کو قرآن میں بیان کیا کہ گہرے سمندر کے اندھیرے، لہروں کے اوپر لہریں۔ مگر اس گھپ اندھیرے میں اللہ کا معجزہ دیکھیے، ایسی مچھلیاں ہیں جن کے جسم سے خود بخود روشنی نکلتی ہے۔ تین ہزار میٹر کی گہرائی پر دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ انسانی جسم کچلا جائے ، لیکن قدرت نے وہاں بھی زندگی رکھی ہے۔ 'ماریانا ٹرینچ' میں، جو گیارہ ہزار میٹر گہرا ہے، ایسی شفاف مچھلیاں ملی ہیں جن کی ہڈیاں نہیں ہوتیں۔ وہ اس خوفناک دباؤ میں بھی سکون سے تیر رہی ہوتی ہیں۔ اگر ہم اس سے بھی نیچے جائیں، تو ہم زمین کی تہوں میں داخل ہو جائیں گے۔ قشرِ زمین کے نیچے پگھلا ہوا لوہا ہے اور آخر میں زمین کا اندرونی دل، جو سورج کی سطح جتنا گرم ہے۔ وہاں کوئی آواز نہیں، صرف حرارت اور توانائی کا طوفان ہے جو مسلسل گھوم رہا ہے۔ یہی گھومتا ہوا لوہا اللہ کے حکم سے زمین کے گرد ایک مقناطیسی ڈھال بناتا ہے، جو ہمیں سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاتی ہے۔ یہ اللہ کی وہ رحمت ہے جس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شدید گرمی میں بھی 'ایکسٹریموفائلز' جیسے جراثیم زندہ پائے گئے ہیں۔
0:00 / 0:00