اب آتے ہیں ایک اور کردار پر — اسامہ۔ آجرا کا شوہر۔ اور دوستو، یہ انسان... بالکل الگ ہی مٹی کا بنا ہوا ہے۔ اسامہ پیسوں کا بھوکا ہے۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک چیز چمکتی ہے — روپے۔ اور وہ روپے جو اس کی ساس نے وعدہ کیے تھے — پورے ایک لاکھ — وہ ملتے ہیں اسے ایک خالی لفافے میں۔ بس ₹00۔ یعنی کچھ نہیں۔ تو اسامہ کا دماغ گھوم جاتا ہے۔ وہ آجرا کے پاس آتا ہے — جو صبح کی نیند میں ہے — اور چلاتا ہے، "اٹھو! تم نے سویا ہوا ہے اور مجھے لوٹا جا رہا ہے! اپنی پھوپھی سے پیسے دلواؤ ورنہ میں تمہیں گھر سے نکال دیتا ہوں!" آجرا آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کیا ہو رہا ہے۔ لیکن اسامہ رکا نہیں۔ وہ اسے گھسیٹ کر لے جاتا ہے پھوپھی کے گھر — شادی کے بعد پہلے دن۔ پھوپھی کے گھر میں جو ہوتا ہے وہ دل ہلا دیتا ہے۔ پھوپھی سیدھی کھڑی ہوتی ہے۔ "میں نے پورے 20,000 دیے۔ زیادہ نہیں دے سکتی۔" اسامہ بھونکتا ہے، "ایک لاکھ کا وعدہ تھا! جہیز بھی نہیں دیا! میں کون ہوں — کوئی فقیر؟" پھوپھی اتنی بھی نہیں جھکتی — وہ الٹا کہتی ہے، "تمہاری کوئی فیملی نہیں، کوئی پیچھے نہیں، پھر بھی میں نے بچی دی — کیا یہ کافی نہیں؟" یہ سن کر اسامہ کا خون کھول جاتا ہے۔ "ٹھیک ہے۔ یہاں سے پیسے نہیں ملتے — تو میں ابھی طلاق دیتا ہوں آجرا کو۔ یہیں۔ ابھی۔" کمرہ خاموش ہو جاتا ہے۔ پھوپھی چیخ اٹھتی ہے — "کمبخت!" گھر میں شور مچتا ہے۔ اور پھر آجرا کا کزن مراد — جو کہیں سے آ جاتا ہے — وہ اسامہ کا کالر پکڑ لیتا ہے۔ ایک لڑائی چھڑ جاتی ہے۔ ہاتھ اٹھتے ہیں۔ آوازیں اٹھتی ہیں۔ اور اسامہ — جو ایک پل پہلے خود دھکا دینے کی دھمکی دے رہا تھا — اب کالر پکڑے جانے کے بعد آگ بن جاتا ہے۔
0:00 / 0:00