قبر ایک نئی چٹان کاٹ کر بنائی جگہ تھی پتھر کو لُڑھکا کر دروازہ بند کیا گیا تو ایسا لگ

قبر ایک نئی چٹان کاٹ کر بنائی جگہ تھی پتھر کو لُڑھکا کر دروازہ بند کیا گیا تو ایسا لگا جیسے کسی نے کہانی کو زور سے روک دیا ہو بِنا آخری صفحہ پڑے۔ اُس پل مجھے لگا کچھ ادھورا رہ گیا ہے اور یہ احساس مجھے پریشان کررہا تھا ۔ اگلی صبح مجھے حکم مِلا کہ قبر پر پہرہ دیا جائے ۔ افواہیں پھیل چکی تھی کہ ہوسکتا ہے وہ آدمی دوبارہ زندہ ہوجایے یا اس کے شاگرد اس کی لاش چُرا سکتے ہیں ۔ میں نے یہ سوچ کر دل ہی دل میں ہسنے کی کوشش کی لیکن ہنسی آئی نہیں۔ کسی وجہ سے یہ ہنسنا مجھے ناممکن لگا میں دو اور سپاہیوں سمیت قبر پر تعینات تھا ۔ رات ٹھنڈی اور تارے چمک رہے تھے ہم آپس میں باتیں کررہے تھے لیکن وقفے وقفے سے میری نظر اُس قبر کے آگے لُڑھکے پتھر پر جارہی تھی۔ رات گہری ہوتی گی اور میری یادوں میں خون سے لتھ پتھ اور سکون سے بھرا وہ چہرہ آنکھوں میں آتا رہا ۔ مُجھے نیند نہیں آ رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کیا یہ وہی ہے جو میں نے اسے محسوس کیا ہے۔ تو کیا یہ پتھر اسے روک سکتا ہے ? میں رومی سپپاہی تھا دیواروں اور پتھر پر بھروسہ رکھتا تھا۔ لیکن اُس رات مجھے لگا کچھ چیزیں ایسی ہوتیں ہیں جنہیں کوئی نگہبان یا پہرہ نہیں روک سکتا۔ ہوا ایکدم تیز ہوگی۔ مَیں نے محسوس کیا جیسے زمین کے نیچے ہل چل ہورہی ہو میں نے اپنے بھالے کو مضبوطی سے پکڑ لیا اُس رات وہ ہُوا جسے لفظوں میں باندھنا میرے لیے آسان نہیں ہے مَیں قبر کے سامنے کھڑا تھا آنکھیں اندھیرے کی عادت ڈال چکی تھی۔ اور دل میں وہی انجانا تناو تھا جو پوری رات سے مجھے جکڑے ہوا تھا تب زمین نے کچھ ہل چل کی پہلے مجھے لگا شاید یہ تھکان کا وہم ہے لیکن اگلے ہی پل دھرتی سچ مُچ کانپنے لگی پتھر کے نیچے سے کنپن میرے پیروں تک چڑھ آیا
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio