CharonUse these settings →
قرآنِ کریم… دینِ اسلام کی بنیاد۔ ایمان کی روح… اور امتِ مسلمہ کی عقیدت کا محور۔ اسی لیے— ہر دور میں دشمنانِ اسلام نے اپنی ابلیسی ذہنیت کے تحت قرآنِ کریم کو نشانہ بنایا۔ فتنۂ خلقِ قرآن سے لے کر— آج کے “سنی شیعہ متفقہ ترجمہ قرآن” تک… سازشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ… جاری ہے۔ مگر… دوسری طرف علماءِ امت ہمیشہ کھڑے رہے— اپنے خون سے… اپنے قلم سے… اور اپنے ایمان کی طاقت سے— ان سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے۔ لیکن آج— صورتحال بدل چکی ہے۔ ایک نئی سازش— زیادہ خاموش… زیادہ منظم… اور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک— سامنے آ چکی ہے۔ منکرینِ ختمِ نبوت نے کتاب اللہ کے خلاف ایک ایسا جال بچھایا ہے— جو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ… اور مہلک ہے۔ اس سازش کے تحت— تنظیم اسلامی کے موجودہ امیر شجاع الدین شیخ کی قیادت میں— “دی علم فاؤنڈیشن” قائم کی گئی۔ بظاہر مقصد کیا تھا؟ عصری تعلیمی اداروں کے لیے— قرآنِ پاک کی تعلیم کا ایک جدید نصاب۔ لیکن… حقیقت کچھ اور ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم— جہاں منکرینِ ختمِ نبوت کو اہلِ اسلام کے ساتھ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اور پھر… عام مسلمانوں کو یہ باور کروایا جا رہا ہے— کہ وہ گروہ— جو ختمِ نبوت کا انکار کرتا ہے… جو قرآن کو تحریف شدہ اور نامکمل کہتا ہے… اور صحابہ کرامؓ کی تکفیر کرتا ہے— وہ بھی… اسی صف کا حصہ ہے۔ یہ صرف ایک نصاب نہیں— یہ صرف ایک ترجمہ نہیں— یہ عقیدے کی بنیادوں پر حملہ ہے۔ “دی علم فاؤنڈیشن”— اربوں روپے کی فنڈنگ… اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ— اپنے اس نصاب— “سنی شیعہ متفقہ ترجمہ قرآن”… بنام “مطالعہ قرآن حکیم”— کو تعلیمی اداروں… اور بعض مدارس میں— داخل کر چکی ہے۔ علماء کو دھوکہ دینے کے لیے— ایک جھوٹا بیانیہ بھی گھڑا گیا۔
0:00 / 0:00