AlgiebaUse these settings →
ایک پادری نے اپنی ڈائری میں لکھا — "آج صبح ندی کے پاس ایک عجیب جانور دیکھا — لمبا جسم — چھوٹے پر — تیزی سے جنگل میں غائب ہو گیا۔" یہ ڈائری آج بھی فرانس کے ایک کلیسا کے آرکائیو میں محفوظ ہے۔ چوتھا ریکارڈ — اور یہ سب سے قریبی ہے۔ 1890 عیسوی — امریکی اخبار "Tombstone Epitaph" — جس کا ذکر ہم نے شروع میں کیا — اس اخبار نے لکھا کہ دو کاؤ بوائے نے ایریزونا کے صحرا میں ایک اڑنے والا جانور مارا — اس کا پھیلاؤ 92 فٹ تھا — جسم سانپ جیسا تھا — اور اس کے پر تھے۔ اب یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے — 92 فٹ کا جانور؟ کیا یہ ممکن ہے؟ بالکل ممکن ہے۔ Quetzalcoatlus — ایک اصلی ڈائنوسار — جس کے پروں کا پھیلاؤ 33 سے 52 فٹ تک تھا — یہ آج سے 66 ملین سال پہلے اڑتا تھا۔ اگر اس جیسا کوئی جانور آج بھی کہیں ہوتا — تو وہ بالکل ایسا ہی دکھتا — جیسا ان کاؤ بوائے نے بیان کیا۔ پانچواں ریکارڈ — اور یہ اسلامی تاریخ سے ہے۔ ہمارے اپنے بزرگ مورخ ابن خلدون — جو چودہویں صدی کے عظیم مؤرخ ہیں — انہوں نے لکھا ہے کہ شمالی افریقہ کے صحراؤں میں — ایسے جانور دیکھے جانے کے قابل اعتماد واقعات ملتے ہیں — جو بہت بڑے رینگنے والے جانور تھے — اور جو انسانی آبادیوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ ابن خلدون نے ان کا ذکر کسی افسانے کے طور پر نہیں کیا — بلکہ ایک مؤرخ کی حیثیت سے — ثبوت کے ساتھ لکھا۔ یہ پانچ ریکارڈ — پانچ مختلف زمانوں سے — پانچ مختلف جگہوں سے۔
0:00 / 0:00