ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک نوجوان لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد بہت محنتی اور

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک نوجوان لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد بہت محنتی اور نیک دل تھا، مگر اس کی زندگی آسان نہیں تھی۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور گھر کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر آ گئی تھی۔ احمد ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ اس کا مالک ایک امیر مگر سخت مزاج آدمی تھا۔ وہ اکثر احمد کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ڈانٹتا اور کبھی کبھی اس کی تنخواہ بھی روک لیتا تھا۔ ایک دن دکان پر ایک عجیب واقعہ ہوا۔ کسی گاہک کا قیمتی پیسوں سے بھرا بٹوہ گم ہو گیا۔ مالک بہت غصے میں آ گیا۔ اس نے فوراً احمد پر شک کیا کیونکہ وہی اس وقت دکان میں موجود تھا۔ احمد نے ڈرتے ہوئے کہا: “میں نے کچھ نہیں لیا، میں اللہ کو گواہ مان کر کہتا ہوں کہ میں بے قصور ہوں۔” مگر مالک نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس نے دھمکی دی: “اگر تم نے سچ نہیں بتایا تو میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دوں گا!” احمد بہت پریشان ہوا، مگر وہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ وہ ہر وقت اللہ سے دعا کرتا رہا: “یا اللہ! میری مدد فرما، میں بے گناہ ہوں، میری عزت بچا لے۔” اگلے دن اچانک ایک اور مزدور نے آ کر بتایا کہ وہ بٹوہ دکان کے باہر گر گیا تھا اور کسی نے اسے اٹھا کر محفوظ جگہ رکھ دیا تھا۔ وہ شخص سچ بتانے آیا تھا کیونکہ اسے ضمیر ملامت کر رہا تھا۔ جب سچ سامنے آیا تو مالک کو بہت شرمندگی ہوئی۔ اس نے فوراً احمد سے معافی مانگی اور اس کی تنخواہ بھی بڑھا دی۔ احمد نے مسکرا کر کہا: “میں نے آپ کو معاف کیا، لیکن میں نے سیکھ لیا کہ سچائی کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے وقت لگ جائے۔”
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio