اپنے مرکزی دفتر میں پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے ایک نائب کو اندر لے گیا اور دروا

اپنے مرکزی دفتر میں پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے ایک نائب کو اندر لے گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا ۔ وہ سارا دن کمرے میں بند رہے ۔ سورج غروب ہوا ۔ رات تاریک ہوگئی ۔ کمرے کے اندر کھانا تو در کنار پانی بھی نہیں گیا ۔ رات خاصی گزر چکی تھی جب تینوں باہر نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ علی بن سفیان اُن سے الگ ہوا تو محافظوں کے دستے کے کمانڈر نے اسے روک لیا اور کہا۔ محترم ! ہمارا فرض ہے کہ حکم مانیں اور زبانیں بند رکھیں لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی اور بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے۔ خود میں بھی اس کا شکار ہو رہا ہوں ۔ کیسی مایوسی ؟“ محافظ کہتے ہیں کہ ایک فوج کو شراب پینے کی اجازت ہے تو ہمیں اس سے کیوں منع کیا گیا ہے ؟ کمانڈر نے کہا۔" اگر آپ میری شکایت کو گستاخی سمجھیں تو سزا دے دیں لیکن میری شکایت سن لیں ۔ ہم اپنے امیر کو خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے ۔ مگر رات ..... اس کے خیمے میں ایک رقاصہ گئی تھی ۔ علی بن سفیان نے اس کی بات پوری کرتے ہوئے کہا۔ " تم نے کوئی گستاخی نہیں کی۔ گناہ امیر کرے یا غلام ، سنزا میں کوئی فرق نہیں ، گناہ بہرحال گناہ ہے۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ رقاصہ اور امیر مصر کی خفیہ ملاقات کے ساتھ گناہ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ کیا تھا ؟ ابھی نہیں بتاؤں گا۔ آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ رات کیا ہوا تھا ۔ اس نے کمانڈر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا " میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ! تم پرانے عسکری ہو۔ اچھی طرح جانتے ہو کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ہوتے ہیں جن کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ رقاصہ کا امیر مصر کے خیمے میں جانا بھی ایک راز ہے ۔ اپنے جانبازوں کو کسی شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے ذکر تک نہ ہو کہ رات کیا ہوا تھا ۔ علی بن سفیان کی قابلیت اور کارناموں سے یہ کما نڈر آگاہ تھا مطمئن ہو گیا اور اس نے اپنے دستے کے شکوک رفع کر دیئے ۔ اگلے روز صلاح الدین ایوبی دو پہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ اُسے اطلاع دی گئی کہ ناجی ملنے آیا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ہو کر ناجی سے ملا۔ ناجی کا چہرہ بتا رہا تھا کہ گھرایا ہوا ہے اور غصے میں بھی ہے
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio