اور انہیں "ڈریگن" کا نام دیا

اور انہیں "ڈریگن" کا نام دیا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے — ہمیں ایک اور جگہ جانا ہوگا۔ 66 ملین سال پہلے — ایک بہت بڑا الکا زمین سے ٹکرایا۔ آسمان دھویں سے بھر گیا۔ سورج کی روشنی مہینوں تک بند ہو گئی۔ زیادہ تر ڈائنوسار مر گئے۔ لیکن — سب نہیں مرے۔ یہ سائنس کا ثابت شدہ حقیقت ہے۔ پرندے — جو آج ہمارے گھروں کے آس پاس اڑتے ہیں — یہ اصل میں ڈائنوسار ہی ہیں۔ چھوٹے پروں والے Theropod ڈائنوسار بچ گئے — اور آج پرندوں کی شکل میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ تو سوال یہ ہے — اگر چھوٹے ڈائنوسار بچ سکتے تھے — تو کیا بڑے نہیں بچ سکتے تھے؟ یہاں ایک اور حیران کن بات سامنے آتی ہے۔ 2019 میں — انڈونیشیا کے جنگل میں — ایک ایسا جانور ملا جسے سائنس 24 ملین سال سے ناپید سمجھ رہی تھی۔ اس کا نام "Wollemi Pine" نہیں — بلکہ یہ ایک رینگنے والا جانور تھا — جسے "Wallace's Flying Frog" سے ملتا جلتا کہا جاتا ہے — لیکن اس کا سائز اور ساخت بالکل مختلف تھی۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ 1938 میں — جنوبی افریقہ کے سمندر میں — ماہی گیروں نے ایک ایسی مچھلی پکڑی جسے سائنس 65 ملین سال سے مردہ سمجھ رہی تھی۔ اس کا نام "Coelacanth" ہے۔ یہ مچھلی ڈائنوسار کے زمانے میں تھی — اور آج بھی زندہ ہے۔ تو سائنس کا اپنا ریکارڈ یہ ہے — کہ جانور کروڑوں سال تک چھپے رہ سکتے ہیں — اور پھر اچانک مل جاتے ہیں۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio