زینب آنکھیں ملتی ہوئی اٹھی۔ فہد ابھی سو رہا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھی، چادر اوڑھی اور نیچے

زینب آنکھیں ملتی ہوئی اٹھی۔ فہد ابھی سو رہا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھی، چادر اوڑھی اور نیچے گئی۔ رحمت بی بی کچن میں کھڑی تھیں۔ "جلدی کرو۔ گھر میں سست عورت برداشت نہیں ہوتی۔" زینب نے پانی گرم کیا، نماز پڑھی، پھر جھاڑو لے کر صحن میں لگ گئی۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا میں اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ جب وہ جھاڑو لگا رہی تھی تو رحمت بی بی نے آ کر دیکھا، "یہ کیا طریقہ ہے؟ کونے صاف نہیں ہوئے۔ دوبارہ کرو۔" زینب نے دوبارہ جھاڑا۔ اس کے بعد کچن میں گئی تو رحمت بی بی نے حکم دیا، "چائے بناؤ، لیکن میری پسند کی۔ دودھ کم، چینی زیادہ۔ اور ناشتہ میں پراٹھے بناؤ۔ فہد کو تازہ چاہیے۔" زینب نے پراٹھے بنائے۔ جب فہد اٹھا تو اس نے زینب کو تھکے ہوئے دیکھا۔ "کیا بات ہے؟ اتنی جلدی اٹھ گئیں؟" زینب نے مسکرا کر کہا، "امی جان نے بلایا تھا۔" فہد نے ماں سے کہا، "امی، زینب کو تھوڑا آرام کرنے دیں۔ شادی کے بعد ہے۔" رحمت بی بی نے غصے سے دیکھا، "تمہیں کیا پتا؟ میں نے بھی شادی کے بعد یہی سب کیا تھا۔ عورت گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ اب سے سست پڑ گئی تو بعد میں کیا کرے گی؟" فہد خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں سے بحث کرنے کا فائدہ نہیں۔ دن بھر زینب کام میں لگی رہی۔ کپڑے دھوئے، برتن مانجے، دوپہر کا کھانا بنایا۔ رحمت بی بی ہر کام پر تنقید کرتیں – "نمک کم ہے، مرچ زیادہ ہے، روٹی سخت ہے۔" زینب خاموش رہتی، بس "جی امی جان" کہتی۔ شام کو فہد کی بہن سعدیہ (نند) آئی۔ سعدیہ شادی شدہ تھی لیکن اکثر ماں کے گھر آتی رہتی تھی۔ اس نے زینب کو دیکھ کر مسکرایا، لیکن مسکراہٹ میں طنز تھا۔ "بھابی، آپ تو بہت خوبصورت ہیں۔ لیکن گھر کا کام تو سیکھنا پڑے گا۔ امی کو پسند نہیں آتا کہ کوئی کام ادھورا رہے۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio