اگر وہ سچ میں زندہ تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موت ہار گئی ہے اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ میرے جیسے لوگوں کے لیے بھی کوئی راستہ بچا ہوا ہے ۔ یہ خیال ڈراونا بھی تھا اور راحت دینے والا بھی کیونکہ اب میرے گناہ صرف بوجھ نہیں تھے اب وہ سوال بن چکے تھے ۔ میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ روم کی تلواریں بس جسم کو جیت سکتی ہیں ۔ لیکن اس انسان کی کہانی دِلوں کو جیت رہی تھی اور دل میں نے اب تک سیکھ لیا تھا کسی قلعے سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اُس وقت مجھے احساس ہونے لگا کہ جس سچائی کو دبانے کی کوشش کررہا ہوں وہ میرے اندر ہی جگہ بنا چکی ہے ۔ اب سوال یہ نہیں تھا وہ زندہ ہے کہ نہیں سوال یہ تھا جب سچ میرے سامنے کھڑا ہے۔ تو مَیں کب تک اس سے منہ موڑ کر رومی سپاہی بنا رہونگا ۔ مَیں جتنا بھاگنے کی کوشش کرتا سچائی اتنا ہی پاس آتی جاتی ۔ شہر میں اس کے نام کی گونج اب سرگوشی نہیں رہی تھی وہ گھروں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی جیسے یروشلم خود اُسے بھول نہ پا رہا ہو ۔ میں پہرے پر تھا لیکن میرا دماغ کہی اور بھٹک رہا تھا ہر بار جب کوئی گھایل بیمار یا ٹوٹا ہوا شخص دِکھتا تو میرے اندر ایک سوال اٹھتا اگر وہ سچ میں زندہ ہے تو کیا وہ ایسے ہی لوگوں کے پاس جائے گا یا پھر اپنے دشمنوں کے پاس بھی ۔ میں جانتا تھا یہ سوال کا جواب مجھے چین نہیں لینے دے گا ۔ ایک رات جب شہر میں بلکل سناٹا تھا اور گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی مجھے ایک حکم ملا ۔ کوئی مجھ سے ملنا چاہتا تھا یہ حکم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دھمکی صرف ایک سادہ سا بلاوا میں بہت دیر تک کھڑا سوچتا رہا جاوں کہ نہیں ؟ کیونکہ میں جانتا تھا اگر میں گیا تو لوٹ کر جیسا ہوں ویسا نہیں آونگا
0:00 / 0:00