AlgiebaUse these settings →
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل کے کنارے دو بہترین دوست، احمد اور علی، رہتے تھے۔ ایک دن وہ جنگل میں سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک بہت پرانا اور بڑا درخت نظر آیا۔ اس درخت کے پتے جھڑ چکے تھے اور وہ بالکل خشک دکھائی دیتا تھا۔ احمد نے مذاق میں کہا، "یہ بیکار درخت یہاں کیوں کھڑا ہے؟ اسے تو کاٹ دینا چاہیے۔" اچانک درخت سے ایک دھیمی آواز آئی، "بیٹا! ظاہری صورت پر نہ جاؤ، ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔" دونوں دوست ڈر گئے، لیکن علی نے ہمت کر کے پوچھا، "آپ اتنے خشک کیوں ہیں؟" درخت نے جواب دیا، "میں نے اپنی ساری توانائی ان پرندوں کو بچانے میں لگا دی ہے جو سخت گرمی میں میری جڑوں میں پناہ لیتے ہیں، اس لیے میرے پتے نہیں رہے۔" کچھ دیر بعد اچانک تیز بارش اور آندھی شروع ہو گئی۔ احمد اور علی کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔ اسی خشک درخت کی گھنی اور چوڑی جڑوں کے بیچ ایک غار نما جگہ تھی جہاں دونوں نے پناہ لی اور طوفان سے بچ گئے۔ جب بارش رکی، تو احمد کو اپنی بات پر شرمندگی ہوئی۔ اس نے درخت کا شکریہ ادا کیا۔ سبق: کوئی بھی چیز یا انسان بیکار نہیں ہوتا، اور ہمیں کبھی کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
0:00 / 0:00