ہجوم دھیرے دھیرے واپس جارہا تھا۔ جو لوگ ہنستے ہوئے آئے تھے وہ سر جھکائے لوٹ رہے تھے ۔

ہجوم دھیرے دھیرے واپس جارہا تھا۔ جو لوگ ہنستے ہوئے آئے تھے وہ سر جھکائے لوٹ رہے تھے ۔ کچھ عورتیں روتی ہوئی پہاڑ سے نیچے اتر رہی تھیں۔ مَیں وہی صلیب کے پاس کھڑا رہا جیسے اُس کے ساتھ ایسا بنَدھا ہو جس نے مجھے بھی باندھ لیا ہو ۔ میرے اندر ڈر بھی تھا اور راحت بھی کیونکہ آج مجھے ایسا محسوس ہوا سچائی وہ نہیں ہوتی جو تلوار طے کرتی ہے شام ڈھلنے لگی اور سورج دوبارہ غائب ہونے لگا۔ میرے اندر اندھیرا اور روشنی آپس میں لڑ رہے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کل صبح میں دوبارہ قلعے جاونگا تو کیا میں وہی سپاہی رہوں گا۔ جو صبح یہاں آیا تھا مُجھے نہیں پتہ تھا اس کہانی کا آخر ابھی ہوا ہے یا ابھی شروعات ہے ۔ ایک ایسی شروعات جو مجھے اس آدمی کی طرف کھینچنے والی تھی ۔ جس کی موت نے میرے ایمان کو پہلی بار بیدار کیا ۔ اس شام جب ہمیں لاشیں صلیب سے اتارنے کا حکم ملا تو مَیں اندر سے تھکا ہوا تھا جیسے کسی نے ایک ہی دن میں سینکڑوں زندگیاں جینے کا کہہ دیا ہو ۔ دو ڈاکووں کی لاشیں جلدی ہی اتار لی گی لیکن اس کے معاملے میں پھر سب کچھ الگ تھا۔ پھر ایک معزز یہودی آیا جس نے حُکم نامہ دکھایا اور بڑے احترام کے ساتھ اس کی لاش مانگی ۔ مَیں دیکھ رہا تھا کہ کیسے کچھ لوگ جو ڈرتے ہوئے دور کھڑے تھے اب حوصلہ کر کے پاس آرہے تھے ۔ہم سپاہیوں نے بحفاظت اس کی لاش صلیب سے نیچے اتاری میں وہی کھڑا اس جسم کو دیکھتا رہا جو اب خاموش تھا لیکن پھر بھی کسی طرح زندہ سا لگتا تھا جیسے موت نے اُسے پوری طرح چھوا ہی نہ ہو ۔ جب اُسے کفن میں لپیٹ کر قبر کی طرف لے جایا جارہا تھا تب سورج غروب ہو رہا تھا اور آسمان لال رنگ کا ہوگیا تھا ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio