جنوری کی ٹھنڈی دوپہر۔ نیویارک۔ جہاز نے ابھی اڑان بھری ہی تھی — کہ اچانک دو دھماکے ہوئ

جنوری کی ٹھنڈی دوپہر۔ نیویارک۔ جہاز نے ابھی اڑان بھری ہی تھی — کہ اچانک دو دھماکے ہوئے۔ پرندوں کا ایک غول — اور پلک جھپکتے میں — دونوں انجن بند۔ کاک پِٹ میں مکمل خاموشی۔ پائلٹ کے پاس صرف دو سو آٹھ سیکنڈ تھے۔ --- پندرہ جنوری، دو ہزار نو۔ US Airways کی فلائٹ پندرہ سو اُنچاس نے لا گارڈیا سے اڑان بھری — ایک سو پچپن مسافر، ایک عام سفر، ایک عام دوپہر۔ لیکن تین منٹ بعد — سب کچھ بدل گیا۔ کاک پِٹ میں کیپٹن چیسلی سُلنبرگر بیٹھے تھے۔ چالیس سال کا تجربہ، ہزاروں گھنٹے کی پرواز — اور اب سامنے ایک ایسا لمحہ جس کی کوئی مشق نہیں ہوتی۔ انہوں نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا — آواز میں کوئی لرزش نہیں، کوئی گھبراہٹ نہیں — صرف یہ الفاظ: دونوں انجن گئے۔ واپسی کا راستہ نہیں تھا۔ کوئی رن وے قریب نہیں تھا۔ صرف ایک چیز سامنے تھی — ٹھنڈا، گہرا، بے رحم ہڈسن دریا۔ کیپٹن نے ایک لمحہ سوچا — اور کہا: ہم دریا میں اتریں گے۔ --- کیبن میں مسافروں نے صرف پانچ الفاظ سنے — بریس فار امپیکٹ۔ کچھ نے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ نے دعائیں پڑھیں۔ کچھ نے اپنے پیاروں کا چہرہ یاد کیا — شاید آخری بار۔ جہاز نیچے آتا گیا۔ نیویارک کی عمارتیں قریب ہوتی گئیں۔ پانی سامنے آیا — تیز، اور تیز۔ کیپٹن سلنبرگر نے جہاز کی ناک کا زاویہ بالکل درست رکھا — نہ زیادہ اوپر، نہ زیادہ نیچے — اور پھر ہڈسن دریا کی سطح نے جہاز کو اپنے اندر لیا۔ پانی کا ایک عظیم اُبال — اور جہاز رک گیا۔ --- کیبن میں ایک لمحے کی مکمل خاموشی — اور پھر آنسو۔ سب زندہ تھے۔ ریسکیو بوٹیں منٹوں میں پہنچ گئیں۔ لوگ جہاز کے پروں پر کھڑے تھے — ٹھنڈی ہوا میں، پانی کے اوپر — مگر زندہ۔ کیپٹن سلنبرگر سب سے آخر میں نکلے۔ پانی ان کے گھٹنوں تک آ چکا تھا —
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio