AchirdUse these settings →
انہوں نے جھوٹ بولا ۔ اپنے آپ کو تاجر کہا لیکن تلاشی لی تو پیغام مل گیا جو ناجی نے انہیں دیا تھا۔ دونوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا اور یہ پارٹی واپس ہوئی ۔ صلاح الدین ایوبی بے تابی سے انتظار کر رہا تھا ۔ دن گزر گیا ۔ رات بھی گزرتی جارہی تھی ۔ آدھی رات گزر گئی ۔ ایوبی لیٹ گیا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ سحر کے وقت دروازے پر ہلکی سی دستک سے اس کی آنکھ کھل گئی ۔ دوڑ کر دروازہ کھولا ۔ علی بن سفیان کھڑا تھا ۔ اس کے پیچھے اس کے آٹھ سوار اور دو قیدی کھڑے تھے ۔ علی اور قیدیوں کو صلاح الدین ایوبی نے سونے کے کمرے میں ہی بلا لیا اور علی سے ناجی کا پیغام لے کر پڑھنے لگا ۔ پہلے تو اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا پھر جیسے یکلخت خون جوش مار کے اس کے چہرے اور آنکھوں میں پڑھ گیا ہو۔ ناجی کا پیغام خاصا طویل تھا ۔ اس نے صلیبیوں کے ایک بادشاہ ، فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فلاں دن اور فلاں وقت یونانیوں ، رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کر دے ۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پچاس ہزار سوڈانی فوج امیر مصر کے خلاف بغاوت کر دے گی۔ مصر کی نئی فوج حملے اور بغاوت کا بیک وقت مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ... اس کے عوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے بڑے حصے کی حکمرانی کی شرط پیش کی تھی ۔ صلاح الدین ایوبی نے پیغام لے جانے والے دونوں سواروں کو تہ خانے کی قید میں ڈال دیا اور اسی وقت اپنی نئی فوج کا دستہ بھیج کر ناجی اور اس کے تین ناتبین کو ان کے مکانوں میں نظر بند کر کے پہرہ لگا دیا۔ ناجی کے حرم کی تمام کی تمام عورتیں آزاد کر دی گئیں
0:00 / 0:00