وہاں کے مقامی لوگ آج بھی "موکیلے مبیمبے" کی بات کرتے ہیں — ایک بہت بڑا جانور — جو جھی

وہاں کے مقامی لوگ آج بھی "موکیلے مبیمبے" کی بات کرتے ہیں — ایک بہت بڑا جانور — جو جھیلوں اور ندیوں میں رہتا ہے — جس کی گردن لمبی ہے — جسم ہاتھی جتنا بڑا ہے۔ اور یہ لوگ اس جانور سے اس قدر خوفزدہ ہیں — کہ اس کا نام لیتے وقت بھی آہستہ بولتے ہیں۔ اب یہ تین جگہیں — پہاڑ — سمندر — جنگل — تینوں ایسی جگہیں ہیں جہاں آج بھی انسان مکمل طور پر نہیں پہنچ سکا۔ تینوں ایسی جگہیں ہیں جہاں بڑے نامعلوم جانور چھپے رہ سکتے ہیں۔ یہ اتفاق ہے — یا کچھ اور؟ اگر ڈریگن حقیقی جانور تھے — تو وہ کیا کھاتے تھے؟ قدیم ذرائع سے بہت دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ رومی مورخ Pliny نے لکھا — ڈریگن ہاتھیوں کو کھاتے تھے۔ چینی ذرائع میں ہے — ڈریگن پانی پیتے تھے — ندیوں کے قریب رہتے تھے — اور بڑے جانور شکار کرتے تھے۔ یورپی روایات میں — ڈریگن مویشی کھاتا تھا — کبھی کبھی انسانوں کو بھی۔ یہ بالکل وہی طرزِ زندگی ہے — جو آج کے سب سے بڑے رینگنے والے جانور — کوموڈو ڈریگن — کی ہے۔ کوموڈو ڈریگن آج بھی: ہرن — بھینسے — اور کبھی کبھار انسانوں کو بھی کھاتا ہے۔ اس کی زبان کانٹے دار ہے — جو ہوا میں کیمیکل سونگھتا ہے۔ اس کے منہ میں زہریلے بیکٹیریا ہیں — جو زخم کو انفیکشن سے بھر دیتے ہیں۔ اور یہ صرف 10 فٹ لمبا ہے — اگر اس جیسا کوئی جانور 30 یا 40 فٹ کا ہو — تو وہ بالکل وہی ہوگا — جو قدیم لوگوں نے "ڈریگن" کہا۔ اور "آگ اگلنا"؟ یہ سب سے دلچسپ سوال ہے۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio