اُن لوگوں نے اُسے دھمکایا، مارنے کی کوشش بھی کی۔ مگر اَحْمَد نے ہمت نہ ہاری۔ آخر کار ایک بوڑھا شخص وہاں آیا اور اُس نے سب کو روکا۔ اُس نے اَحْمَد سے پوچھا: “بیٹا، تم کیوں خطرہ مول لے رہے ہو؟ اگر تم جھوٹ بول دیتے تو بچ جاتے۔” اَحْمَد نے جواب دیا: “میں اپنی ماں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ چاہے جان چلی جائے، مگر سچائی نہیں چھوڑوں گا۔” بوڑھا شخص دراصل ایک نیک اور سمجھدار آدمی تھا۔ اُس نے اُن بد نیت لوگوں کو ڈانٹا اور اَحْمَد کی حفاظت کی۔ جب اَحْمَد شہر پہنچا اور امانت صحیح سلامت حوالے کی، تو تاجر بہت خوش ہوا۔ اُس نے کہا: “میں نے بہت لوگوں کو آزمایا، مگر تم جیسے ایماندار کم ملتے ہیں۔” تاجر نے اَحْمَد کو انعام دیا اور اُسے اپنے کاروبار میں شریک کر لیا۔ کچھ ہی عرصے میں اَحْمَد کی زندگی بدل گئی۔ وہ امیر تو ہو گیا، مگر اُس نے کبھی غرور نہ کیا۔ وہ ہمیشہ اپنے والدین کا احترام کرتا اور غریبوں کی مدد کرتا۔ لوگ اُس کی مثال دینے لگے اور کہتے: “دیکھو! سچائی اور ایمانداری کبھی ضائع نہیں جاتی۔” 📌 سبق یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ: سچائی ہمیشہ کامیابی دلاتی ہے۔ امانت داری سب سے بڑی دولت ہے۔ مشکل وقت میں بھی صحیح راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ والدین کی نصیحت زندگی بدل سکتی ہے
0:00 / 0:00