اور ہاں خجند سے آپ قریبی کئی خوبصورت مقامات پر جا سکتے ہیں۔ دوستو اب بات کرتے ہیں اس

اور ہاں خجند سے آپ قریبی کئی خوبصورت مقامات پر جا سکتے ہیں۔ دوستو اب بات کرتے ہیں اس جگہ کی جو واقعی تاجکستان کی اصل روح ہے۔ پامیر۔ پامیر۔ اس لفظ کو سنتے ہی دل میں ایک عجیب سی کشش پیدا ہوتی ہے۔ پامیر کو دنیا کی چھت کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں پہاڑوں کی اوسط بلندی سات ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ یہاں آپ کو دنیا کے بلند ترین پہاڑ، گہری وادیاں، نیلی جھیلیں اور ایسے نظارے ملیں گے جو آپ نے صرف خوابوں میں دیکھے ہوں گے۔ پامیر خطے کا مرکزی قصبہ ہے خاروغ۔ یہاں پہنچنا آسان نہیں۔ دوشنبے سے خاروغ تک سڑک کے ذریعے سفر تقریباً بارہ سے پندرہ گھنٹے کا ہے اور یہ سفر پوری طرح پہاڑوں کے درمیان ہوتا ہے۔ آپ کے ایک طرف خوفناک چٹانیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف گہری کھائیاں۔ مگر یہ سفر ہی اس کا سب سے بڑا تجربہ ہے۔ خاروغ دنیا کے بلند ترین آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے لوگ پامیری کہلاتے ہیں اور ان کی اپنی الگ ثقافت اور بولیاں ہیں۔ یہاں کے لوگ سخت محنتی، ہنس مکھ اور انتہائی مہمان نواز ہیں۔ اور پامیر ہائی وے پر سفر کرنا تو ایک الگ ہی دنیا ہے۔ یہ سڑک آپ کو ایسے علاقوں سے گزارتی ہے جہاں موبائل سگنل نہیں ہوتا۔ نہ کوئی ریسٹورنٹ نہ کوئی پیٹرول پمپ۔ مگر ہر موڑ پر ایک نیا منظر آپ کا انتظار کرتا ہے جو آپ کی سانسیں روک دے۔ دنیا بھر کے موٹر سائیکل سوار اور ایڈونچر پسند یہاں خاص طور پر آتے ہیں۔ دوستو اب بات کرتے ہیں تاجکستان کی اس جگہ کی جو شاید سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اسکندر کول جھیل۔ اسکندر کول دوشنبے سے تقریباً تین گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ یہ جھیل نیلے آسمان کا عکس اپنے پانیوں میں سمیٹے ہوئے ہے۔ چاروں طرف سفید پہاڑی چوٹیاں، ہرے بھرے گھاس کے میدان اور بالکل صاف پانی۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio