اسلام کامل و مکمل دین اورابدی ضابطۂ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہ

اسلام کامل و مکمل دین اورابدی ضابطۂ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔ دین اسلام جہاں زندگی کے ہر پہلو پر اصولی اسلامی تعلیمات و احکامات عطا کرتا ہے۔ وہاں تمام تر دینی و دنیاوی امور یعنی عبادات و معاملات کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اسلام چونکہ قیامت تک کے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے زندگی گزارنے کا آخری و حتمی طریقہ ہے۔ اس لئے اس میں انسانی زندگی میں نظم و ضبط، اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اسلام افراد امت کے لئے ایک تسبیح کی مانند ہے۔ اس تسبیح میں افراد امت میں سے ہر فرد کو یکجا سمیٹ کر رکھنا مرغوب ہے ۔ ان افراد امت کے بکھر جانے کو ساری تسبیح کے دانوں کے بکھر جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیسے تسبیح کے دانے بکھر جاتے ہیں، ایسے ہی امت بکھر جاتی ہے، جو کسی بھی طرح پسندیدہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنوں کو جسدِ واحد کہا گیا ہے اور باہمی افتراق و انتشار سے بچنے کی تاکید کی گئی۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ اور راستہ ’’نظم جماعت‘‘ کا قیام ہے۔ نماز باجماعت بھی نظم و ضبط اور اجتماعیت کا ایسا سبق ہے جو روزانہ پانچ بار دہرایا جاتا ہے۔ دن میں پانچ بار جب مسلمان مسجد میں اکٹھے ہوں تو اس شعوری احساس کے ساتھ مجتمع ہوں کہ ’’ہم ایک ہیں‘‘۔ ایک اللہ کے بندے ہیں اور خدائے واحد ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ اس اجتماعیت کی اتنی اہمیت بیان کی گئی ہے، عین حالتِ جہاد میں بھی اسے ترک نہ کیا جائے۔ مسلمانوں کو یکسانیت و اجتماعیت اور جسدِ واحد کا شعوری احساس دلانے کے لئے ہر نماز میں اس سبق کی تکرار لازم قرار دی گئی کہ اپنی صفوں کو درست رکھو، کیونکہ صفیں درست رکھنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)

More Urdu Voice Samples

chirp3-hd:Kore

اسلام کامل و مکمل دین اورابدی ضابطۂ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہ

اسلام کامل و مکمل دین اورابدی ضابطۂ حیات ہے۔ جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔ دین اسلام جہاں زندگی کے ہر پہلو

gemini-2.5-pro-tts:Achird

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہی

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہیں تھی ، عیسائی بھی نہیں تھی ۔ جیسا

Classic

“Raat ke 11:47 baj rahe thay

“Raat ke 11:47 baj rahe thay. Flight PK-742, 30,000 feet par” “Cabin mein halki si roshni thi. Log so rahe thay.” “Aariz

onyx

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change every

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change everything. The attorney asks the judge

onyx

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change every

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change everything. The attorney asks the judge

gemini-2.5-pro-tts:Achird

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہی

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہیں تھی ، عیسائی بھی نہیں تھی ۔ جیسا

← Return to Studio