مَیں کسی ایسے راستے پر کھڑا تھا جہاں پیچھے لوٹنا آسان تو تھا لیکن آگے بڑھنا ضروری ہوچ

مَیں کسی ایسے راستے پر کھڑا تھا جہاں پیچھے لوٹنا آسان تو تھا لیکن آگے بڑھنا ضروری ہوچکا تھا ۔ اُس رات مَیں اپنی وردی کو پہلے جیسا پہن نہیں پایا تھا چمڑا وہی تھا تلوار وہی تھی لیکن اس کے درمیان کھڑا آدمی بدل چکا تھا ۔ جب میں اگلی صبح پہرے پر نکلا تو ہر حکم مجھے بھاری لگ رہا تھا ہر سلام بناوٹی اور ہر رومی سپاہی کھوکھلا ۔ یہ ایسا نہیں تھا کہ میں نے روم سے نفرت کرنا شروع کردی ہو۔ میں بس یہ سمجھنے لگا تھا روم نے مجھے جو پہچان دی تھی وہ میری پوری حقیقت نہیں تھی ۔ مَیں اب بھی وہی آدمی تھا جس نے کیلیں ٹھوکی تھیں جس نے بھالا چلایا تھا لیکن میں وہ بھی تھا جسے معافی ملی تھی ۔ اور ان دونوں سچائیوں کو ایک ساتھ قبول کرنا آسان نہیں تھا شہر میں حالات بدل رہے تھے جن لوگون کو ہم ڈرپوک اور چھپا ہوا سمجھتے تھے وہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے تھے ۔ وہ ہتھیار نہیں اٹھا رہے تھے نہ ہی بغاوت کی تیاری کررہے تھے ۔ لیکن ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی نرمی تھی ۔ وہ کسی حکومت سے نہیں ڈرتے تھے ۔ کیونکہ ان کا بھروسہ اب کسی تلوار یا تخت پر نہیں تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے تھے بیماروں کو سنبھالتے تھے۔ اور غریبوں کے ساتھ روٹی بانٹتے تھے یہ ایک نئی دنیا کی شروعات جیسی تھی اور یہ بات روم کے لیے خطرناک تھی کیونکہ ایسی دنیا کو ڈر کے ساتھ قابو نہیں کیا جاسکتا ۔ میرےاندر ایک لگاتار لڑائی چل رہی تھی کئی راتوں تک میں سو نہیں پایا کیونکہ ہر بار جب آنکھیں بند کرتا مجھے وہ صلیب دِکھتی خالی قبر اور وہ زندہ نظر۔ میں سوچتا رہا کیا میں اس سچائی کو اپنے اندر ہی دبا کر زندہ رہ سکتا ہوں ۔ یا یہ ایک دن مجھے مجبور کرے گی کہ میں یہ سب چھوڑ دوں ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio