CharonUse these settings →
یہ بنکر البانیہ کی پہچان بن گئے ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے خاص طور پر جاتے ہیں۔ انیس سو اکیانوے میں کمیونزم ختم ہوا تو البانیہ میں اتنی افراتفری مچی کہ لاکھوں لوگ کشتیوں پر بیٹھ کر اٹلی بھاگ گئے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ ملک نے ترقی کی اور آج البانیہ دو ہزار نو سے نیٹو کا رکن ہے اور دو ہزار بائیس سے یورپی یونین میں شامل ہونے کی بات چیت بھی چل رہی ہے۔ دوستو اگر بات کریں لوگوں کی تو البانوی لوگ انتہائی مہمان نواز ہوتے ہیں پاکستانیوں جیسے۔ اگر کوئی غیر ملکی ان کے گھر آئے تو وہ اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔ ان کا ایک خاص ضابطہ اخلاق ہے جسے بیسا کہتے ہیں۔ یعنی دیا ہوا وعدہ ہر حال میں نبھانا۔ یہ البانوی ثقافت کا بہت اہم حصہ ہے۔ وہاں اٹھاون فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ سترہ فیصد مسیحی ہیں اور باقی یا تو مختلف مذاہب کے ہیں یا لادین ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ البانیہ میں مذہبی ہم آہنگی مثالی ہے۔ مسلمان، کیتھولک، آرتھوڈوکس عیسائی سب مل جل کر رہتے ہیں۔ کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا نہیں۔ ایسی مثال پوری دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ البانوی لوگ بہت محنتی ہیں اور زیادہ تر یورپی زبانیں بھی جانتے ہیں۔ اطالوی، یونانی اور انگریزی۔ وہ یورپ کے سب سے زیادہ کثیر اللسانی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک اور مزے کی بات البانیہ میں سر ہلانے کا مطلب باقی دنیا سے الٹا ہے۔ جب البانی سر اوپر نیچے ہلاتے ہیں تو مطلب نہیں ہوتا۔ اور جب سر دائیں بائیں ہلاتے ہیں تو مطلب ہاں۔ پہلی بار جانے والے سیاح اس سے بہت کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ البانیہ کی کرنسی ہے لیک اور دو ہزار چھبیس میں ایک ڈالر کے بدلے تقریباً ستاسی لیک ملتے ہیں۔ ملک کی مجموعی معیشت یعنی جی ڈی پی تقریباً چوبیس سے پچیس ارب ڈالر کے آس پاس ہے۔ یہ یورپی معیار پر کم ہے۔
0:00 / 0:00