یہ ایک چڑیل کی کہانی ہے… ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک پرانا سا جنگل تھا جس کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ وہاں رات کے وقت جانا منع ہے۔ مگر گاؤں کے کچھ لڑکے ان باتوں کو صرف ڈر اور افواہ سمجھتے تھے۔ ایک رات، تین دوست شرط لگا کر اس جنگل میں چلے گئے۔ چاند آسمان پر تھا، مگر اس کی روشنی بھی درختوں کے گھنے سائے میں کھو جاتی تھی۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی، جیسے جنگل سانس روک کر ان کا انتظار کر رہا ہو۔ جیسے ہی وہ اندر گئے، ہوا اچانک ٹھنڈی ہو گئی۔ ایک دوست نے ہنس کر کہا، “یہ سب ڈرامہ ہے، کچھ نہیں ہوتا یہاں۔” لیکن اسی لمحے، کہیں دور سے ایک عورت کے ہنسنے کی آواز آئی… بہت تیز اور عجیب۔ تینوں رک گئے۔ پھر وہی آواز دوبارہ آئی، اس بار قریب سے۔ “کون ہے؟” ایک نے ہمت کر کے آواز دی۔ جواب میں صرف ہنسی تھی… اور پھر درختوں کے پیچھے ایک پرچھائیں نظر آئی۔ لمبے بال، جھکی ہوئی گردن، اور ہاتھ غیر معمولی لمبے… ایک نے دھیمی آواز میں کہا، “یہ… یہ چڑیل ہے…” وہ تینوں بھاگنے لگے، مگر جنگل جیسے بدل گیا تھا۔ راستہ وہی نہیں رہا تھا جہاں سے وہ آئے تھے۔ ہر طرف صرف درخت اور اندھیرا تھا۔ پھر اچانک، ایک لڑکا گر گیا۔ جب اس نے پیچھے دیکھا تو اس کے پیچھے کوئی نہیں تھا… مگر اس کے کان کے پاس کسی نے سرگوشی کی: “تم نے مجھے بلا لیا ہے…” وہ لڑکے کسی طرح بھاگ کر گاؤں واپس پہنچے، مگر اگلی صبح ایک کی حالت عجیب تھی۔ وہ نہ بول رہا تھا، نہ کسی کو دیکھ رہا تھا… بس بار بار کھڑکی کی طرف دیکھتا اور کہتا: “وہ ابھی بھی باہر کھڑی ہے…”
0:00 / 0:00