دنیا آج ایک عجیب آئینہ پیش کر رہی ہے۔ ہر چیز کو تولنے کے ترازو بدل گئے ہیں۔ انسان کی قدر اب اس کے علم، اخلاق، ہمدردی یا کردار سے نہیں، بلکہ اس کے پہنے ہوئے لباس، جوتوں اور دکھاوے کی چیزوں سے جانی جاتی ہے۔ بازاروں کی روشنی، شیشے کی چمک، برانڈز کی دھمک ۔یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ یہاں آدمی کی اہمیت نہیں، صرف لباس کی قیمت ہے۔یہ رجحان صرف شہروں تک محدود نہیں رہا۔ دیہی زندگی میں بھی آہستہ آہستہ اسی ثقافت کی جھلک نظر آنے لگی ہے۔ دیہات کے لوگ، جو کبھی زمین کی خوشبو، محنت کی جیت اور سادگی کی قدر کرتے تھے، اب برانڈڈ کپڑوں، مہنگے جوتوں اور دکھاوے کے موبائل فون کے پیچھے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ چھوٹے بازار اور گاؤں کی گلیاں بھی وہی معیار طلب کر رہی ہیں جو بڑے شہروں کے مالز میں ہوتا ہے۔ نوجوان جو پہلے کھیت، کھلی فضاؤں اور محنت میں اپنی پہچان بناتے تھے، اب اپنی زندگی کی اہمیت سوشل میڈیا پر پسندیدہ لائکس، فالوورز اور اسٹائل کے حساب سے تولنے لگے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس دکھاوے کی دنیا کو اور بھی طاقت دی ہے۔ ہر لمحے، ہر تصویر، ہر پوسٹ ۔سب یہ دکھانے کے لیے کہ میں کیا پہنے ہوں، کہاں ہوں، کس برانڈ کے ساتھ ہوں۔زندگی کے معیار بن گئی ہے۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں یہ عالمی پیمانہ حقیقت بن گیا ہے۔ کلاس روم میں یا کام کی جگہ پر وہ شخص جو اپنی محنت، علم یا تخلیقی صلاحیت کے لیے قدر کے قابل ہو، اکثر غیر اہم سمجھا جاتا ہے
0:00 / 0:00