CharonUse these settings →
وہ بس بِلّو بھیا کو دیکھ رہی تھی، جیسے وہ اسے پہچانتی ہو یا پہلی بار دیکھ کر کچھ تلاش کر رہی ہو۔ پھر آہستہ آہستہ وہ لڑکی اس کے قریب آئی، مگر اس کے قدم زمین پر نہیں، ہوا میں تھے۔ بِلّو بھیا کو ایک عجیب سا احساس ہوا… جیسے اس لڑکی کی موجودگی اس کے دل کو چھو رہی ہو۔ اس نے دوبارہ پوچھا، “تم یہاں اکیلی کیوں ہو؟ تم اس جنگل کے اندر کیا کر رہی ہو؟” مگر پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ لڑکی نے صرف اپنا ہاتھ اٹھایا اور جنگل کے گہرے حصے کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں اندھیرا زیادہ گہرا تھا۔ بِلّو بھیا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس پر بھروسہ کرے یا نہیں، لیکن اس لڑکی کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ چلے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پرانی کہانی ادھوری رہ گئی ہو اور اب اسے مکمل کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہو۔ وہ لڑکی آہستہ آہستہ جنگل کے اندر چلنے لگی اور بِلّو بھیا بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ کچھ دیر دونوں خاموشی میں چلتے رہے۔ جنگل کا راستہ عجیب ہوتا جا رہا تھا۔ درخت زیادہ پرانے، زیادہ ٹیڑھے، اور ان پر بنے نشان چمک رہے تھے۔ بِلّو بھیا نے ان نشانات کو چھوا تو اسے ہلکی سی توانائی محسوس ہوئی۔ پھر اچانک لڑکی رک گئی۔ اس نے پہلی بار بِلّو بھیا کی طرف دیکھا اور اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ یہ مسکراہٹ عام نہیں تھی… یہ جیسے درد اور سکون دونوں کا ملاپ تھی۔ بِلّو بھیا نے اسی لمحے محسوس کیا کہ اس لڑکی کے اندر کوئی بہت گہرا راز چھپا ہوا ہے۔ اس رات وہ لڑکی کچھ نہ بولی، مگر بِلّو بھیا نے اسے ایک نام دیا… “لونا”۔ کیونکہ وہ چاندنی سے بنی ہوئی لگ رہی تھی۔ اگلی رات بِلّو بھیا پھر جنگل گیا۔ اور لونا پھر وہاں تھی۔ ہر رات وہ دونوں ملنے لگے۔ آہستہ آہستہ ایک عجیب سا رشتہ بننے لگا۔
0:00 / 0:00