AchirdUse these settings →
سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا تھا۔ کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ باہر ایک رقاصہ کھڑی ہے۔ کہتی ہے کہ حضور نے اُسے بلایا ہے ۔صلاح الدین ایوبی نے کہا اُسے اندر بھیج دو۔ کمانڈر باہر نکلا اور ذوکوئی کو اندر بھیج دیا۔ محافظوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اعظم اس لڑکی کو باہر نکال دے گا۔ وہ سب اس کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار ہو گئے مگر انہیں ایسی کوئی آواز نہ سنائی دی۔ رات گزرتی جارہی تھی ۔ اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے عالم میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگا۔ ایک محافظ نے اسے کہا۔ کیا یہ حکم صرف ہمارے لیے ہے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ہے؟ ہاں ! اس نے جواب دیا۔ حکم صرف ماتحتوں کے لیے اور قانون صرف رعایا کے لیے ہوتے ہیں ۔امیر مصر کو کوڑے نہیں لگائے جا سکتے۔ بادشاہوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کمانڈر نے جل کر کہا ۔ صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ہوگا۔ ہم پر چھوٹی پارسائی کا رعب جمایا جاتا ہے؟ نگاہوں میں صلاح الدین ایوبی کا جو بت تھا وہ ٹوٹ پھوٹ گیا۔ اس بت سے عربی شہزادہ نکلا جو عیاش اور بدکار تھا۔ پارسائی کے پردے میں گناہ کا مرتکب ہورہا تھا۔ ناجی بہت خوش تھا۔ صلاح الدین ایوبی کی خوشنودی کے لیے اُس نے شراب سونگھی بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے خیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رہا تھا۔ اس کے سامنے اوروش بیٹھا تھا۔ اس نے ناجی سے کہا۔ اسے گئے بہت وقت گزر گیا ہے۔ لگتا ہے۔ ہمارا تیر صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ہے؟ " میرا تیر خطا کب گیا تھا؟" ناجی نے قہقہ لگا کر کہا۔ اگر یہ تیر خطا جاتا تو فوراً یہیں لوٹ کے ہمارے پاس آجاتا؟ " تم ٹھیک کہتے تھے" اوروش نے کہا " ذوکوئی انسان کے روپ میں طلسم ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ لڑکی حشیشین کے ساتھ رہی ہے ورنہ صلاح الدین ایولی جیسا بت کبھی نہ توڑ سکتی۔" میں نے اسے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشین کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ آئے ہوں گے" ناجی نے کہا "اب صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اتارنی رہ گئی ہے۔" ناجی کو باہر قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ دوڑ کر باہر گیا۔ وہ ذوکوئی نہیں تھی۔ کوئی سپاہی جارہا تھا۔ ناجی نے دور سے صلاح الدین ایوبی کے خیمے کی طرف دیکھا۔ پردے گرے ہوئے تھے اور باہر محافظ کھڑے تھے۔ اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا
0:00 / 0:00