AlgenibUse these settings →
اور ان دونوں کو جوڑتا ہے — نہر سویز — وہ نہر جو دنیا کی تجارت کا دل ہے! اب بات کرتے ہیں نیل دریا کی! ساتھیو — نیل دریا صرف ایک دریا نہیں — یہ مصر کی زندگی ہے! یہ دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے — 6650 کلومیٹر لمبا! مصر کا 95 فیصد حصہ صحرا ہے — لیکن نیل کے کنارے — ہری بھری زمین ہے — کھیت ہیں — زندگی ہے! آبادی کی بات کریں تو — مصر میں آج 10 کروڑ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں — اور ان میں سے تقریباً ایک کروڑ — صرف دارالحکومت قاہرہ میں! قاہرہ — افریقہ کا سب سے بڑا شہر — جہاں قدیم اہرام بھی ہیں — اور جدید عمارتیں بھی! جہاں اذان بھی گونجتی ہے — اور تاریخ بھی سانس لیتی ہے! ساتھیو — مصر کی تاریخ سمجھنی ہو — تو وقت کے سمندر میں 5000 سال پیچھے جانا ہوگا! یہ وہ زمانہ تھا — جب دنیا کے زیادہ تر لوگ جنگلوں میں رہتے تھے — لیکن مصر میں — ایک عظیم تہذیب جنم لے رہی تھی! فرعونوں کا دور شروع ہوا — اور 3000 سال تک چلتا رہا! یہ وہ بادشاہ تھے — جنہوں نے اہرام بنوائے — جنہوں نے اپنی ممیاں بنوائیں — جنہوں نے خود کو خدا سمجھا! اور پھر آیا وہ لمحہ جو تاریخ بدل دیتا ہے! حضرت موسیٰ علیہ السلام — اللہ کے نبی — فرعون کے دربار میں کھڑے ہوئے — اور کہا — میرے رب کا حکم ہے — بنی اسرائیل کو آزاد کرو! فرعون نے انکار کیا — تکبر کیا — اللہ سے لڑنے کی کوشش کی! پھر آئی وہ رات — جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا دریا پر مارا — اور دریائے نیل دو حصوں میں تقسیم ہو گیا! بنی اسرائیل پار ہو گئے — اور جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریا میں اترا — پانی نے اسے نگل لیا! اور اللہ نے فرمایا — آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے — تاکہ تو آنے والوں کے لیے نشانی بنے! اور آج — وہی فرعون — قاہرہ کے museum میں رکھا ہے!
0:00 / 0:00