CharonUse these settings →
اگر کل صبح… دنیا کا نقشہ بدل چکا ہو — تو کیا آپ کو حیرت ہوگی؟ اگر میں آپ کو بتاؤں… کہ ایک خاموش جنگ… پہلے ہی شروع ہو چکی ہے — جہاں گولیاں نہیں چل رہیں… مگر فیصلے… پوری قوموں کی تقدیر بدل رہے ہیں… اور اس جنگ کا مرکز ہے… ایک سمندر — بحرِ احمر۔ یہ وہ جگہ ہے… جہاں سے دنیا کی تجارت سانس لیتی ہے… اور جہاں اب… طاقتور ممالک اپنی نظریں جما چکے ہیں۔ افریقہ کے ایک کونے میں… ایک ایسا خطہ جسے دنیا مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتی — صومالی لینڈ… خاموشی سے عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے… کہ یہاں خفیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں… فوجی وفود آ رہے ہیں… اور ایک ایسا منصوبہ تیار ہو رہا ہے… جو پورے مشرقِ وسطیٰ کا توازن بدل سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے… کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟ یا واقعی… ایک بڑا منصوبہ پردے کے پیچھے تیار ہو رہا ہے؟ کچھ ماہرین اسے ایک بڑے خواب سے جوڑتے ہیں… ایک ایسا خواب… جسے بعض لوگ "گریٹر اسرائیل" کہتے ہیں… ایک تصور… جو سرحدوں کو بدلنے کی بات کرتا ہے… اور طاقت کے نئے نقشے کھینچتا ہے… اسی دوران… ترکی، سعودی عرب… اور دیگر ممالک بھی خاموش نہیں بیٹھے… اتحاد بن رہے ہیں… فوجی تیاری بڑھ رہی ہے… اور ہر طرف ایک غیر اعلانیہ دوڑ جاری ہے…
0:00 / 0:00