انصاف اور امن قائم کرنا ہوگا۔ کیونکہ طاقتور کا خاتمہ کافی نہیں ہوتا، نظام کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ اب میلو کو سب جانوروں نے اپنا رہنما مان لیا۔ اس نے سب کے ساتھ مل کر ندی کے پانی کو دوبارہ بحال کیا، خوراک کی تقسیم منصفانہ کی اور ہر جانور کو برابر حقوق دیے۔ جنگل میں پہلی بار امن اور سکون قائم ہوا۔ وقت گزرتا گیا اور میلو کی حکمت کے چرچے دور دور تک پھیل گئے۔ دوسرے جنگلوں سے بھی جانور آنے لگے کہ وہ دیکھیں کہ ایک چھوٹا سا خرگوش کیسے عقل اور حکمت سے پورے جنگل کو بدل سکتا ہے۔ میلو ہمیشہ کہتا تھا کہ طاقت کبھی ہمیشہ نہیں رہتی، مگر عقل اور انصاف ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وہ ہر نوجوان جانور کو یہی سبق دیتا کہ مشکل وقت میں ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ ایک دن وہی لومڑی جس نے پہلے میلو کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پاس آئی اور معافی مانگی۔ اس نے کہا کہ میں نے تمہیں کمزور سمجھا تھا مگر تم نے ثابت کیا کہ اصل طاقت دماغ میں ہوتی ہے۔ میلو نے مسکرا کر کہا کہ ہم سب سیکھ رہے ہیں، زندگی کا مطلب ہی یہی ہے۔ جنگل اب پہلے سے بہت بہتر ہو چکا تھا۔ نہ کوئی ظلم تھا نہ خوف۔ ہر طرف خوشی اور سکون تھا۔ جانور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے اور میلو کی کہانی بچوں کو سنائی جاتی تھی تاکہ وہ بھی سیکھ سکیں کہ عقل، صبر اور حوصلہ ہمیشہ جیتتے ہیں۔
0:00 / 0:00