UmbrielUse these settings →
یاد ہے تمہیں...؟ تم نے کہا تھا... حالات جیسے بھی ہوں، ہم ایک دوسرے کا ساتھ... کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور میں نے... اس ایک جملے کو اپنے نصیب کی لکیر سمجھ لیا تھا۔ میں نے تمہیں چاہا نہیں تھا... میں نے تمہیں اپنی آخری پناہ بنا لیا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا... کہ کچھ پناہیں طوفان سے نہیں بچاتیں... خود طوفان بن جاتی ہیں۔ آج بھی وہی دنیا ہے... وہی لوگ ہیں... وہی سانسیں ہیں... بس... میں نہیں ہوں۔ میں کہیں راستے میں تمہارے ساتھ ہی رہ گیا ہوں۔ تم نے ساتھ چھوڑا نہیں... تم نے مجھے زندہ دفن کیا ہے۔ ایسی قبر میں... جہاں سانس تو آتی ہے... مگر سکون نہیں۔ تم گئے بھی تو ایسے... جیسے میں کبھی تھا ہی نہیں۔ جیسے میری محبت کوئی غلطی تھی... کوئی بوجھ تھا۔ تم نے کہا تھا نا... کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تو سنو... میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے آخری بار میرا ہاتھ تھاما تھا۔ فرق بس اتنا ہے... کہ اب تم نہیں ہو۔ اور میرا ہاتھ آج بھی ویسے ہی خالی ہے۔ تمہارے وعدے اب میرے لیے لفظ نہیں رہے... یہ زخم ہیں۔ جو ہر سانس کے ساتھ اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ میں جب بھی ہنستا ہوں... اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ جب بھی مسکراتا ہوں... دل رو پڑتا ہے۔ تم نے مجھے چھوڑا نہیں... تم نے مجھے ختم کر دیا ہے۔
0:00 / 0:00