یا یہ ایک دن مجھے مجبور کرے گی میں یہ سب چھوڑ دوں ۔ ڈر مجھے روکتا تھا ۔ روم کا ڈر ۔ س

یا یہ ایک دن مجھے مجبور کرے گی میں یہ سب چھوڑ دوں ۔ ڈر مجھے روکتا تھا ۔ روم کا ڈر ۔ سزا کا ڈر ۔ اکیلے ہوجانے کا ڈر لیکن ایک اور چیز تھی سچ کے ساتھ جینے کی خواہش ۔ ایک دن مَیں نے اپنے ساتھی سپاہی کو دیکھا جو پہلے کی طرح مزاق کررہا تھا ۔ صولی اور موت کی باتوں کو ہنسی میں اڑا رہا تھا۔ مَیں نے اُسے دیکھا اور محسوس کیا کہ مَیں اب اس ہنسی میں شامل نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک سچائی تھی۔ جو کہ میرے اندر کچھ مر چکا تھا اور کچھ نیا پیدا ہو چکا تھا ۔ مَیں سمجھ چکا تھا کہ پہچان صرف وہ نہیں ہوتی جو ہمیں دی جاتی ہے پہچان وہ بھی ہوتی ہے جسے ہم سچ کے سامنے کھڑے ہو کر چُنتے ہیں ۔ مَیں اب دو دنیا کے بیچ کھڑا تھا۔ ایک جو میری حفاظت کرتی تھی اور دوسری جو مجھے سمجھ دیتی تھی ۔ اُس دن مجھے صاف معلوم ہوا دیر سویر مجھے ایک راستہ چننا ہی ہوگا ۔ کیونکہ آدھا سچ لے کر کوئی انسان پوری طرح زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میری پرانی پہچان ختم ہوچکی تھی اب چاہے مجھے کتنا بھی ڈر لگے میں جانتا تھا جو ٹوٹتا ہے وہ کبھی کبھی نئی چیز بننے کی شروعات ہوتا ہے ۔ جس دن میں نے اپنا آخری فیصلہ لیا وہ کوئی ناٹک نہیں تھا ۔ نہ آسمان پھٹا۔ نہ ہی چمتکار ہوا۔ اور نہ ہی کسی نے مجھے روکا یا پکارا ۔ وہ ایک عام پہلے جیسی صبح تھی لیکن میرے اندر چھپی لڑائی اپنے اختتام پر پہنچ چکی تھی ۔ مَیں قلعے کی دیواروں پر کھڑا شہر کو دیکھ رہا تھا اور مجھےصاف سمجھ آ گیا میں اب دو زندگیاں ایک ساتھ نہیں گزار سکتا۔ جس پہچان نے مجھے اب تک بچایا تھا رومی سپاہی کی پہچان وہ مجھے سچ سے دور رکھ رہی تھی ۔ اور جس سچ نے مجھے چُھوا تھا وہ مجھ سے پوری ایمانداری مانگ رہا تھا ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio