زیبا کا فلمی سفر صرف کامیابیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے،

زیبا کا فلمی سفر صرف کامیابیوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے، مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے وقار اور اصولوں کو برقرار رکھا۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب پاکستانی فلم انڈسٹری میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں، تب بھی زیبا نے اپنے کرداروں کے انتخاب میں معیار کو ترجیح دی اور کبھی بھی سستی شہرت کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے فلم “انجمن” میں ایک طوائف کے کردار کو جس خوبصورتی اور سنجیدگی سے پیش کیا، وہ آج بھی یادگار سمجھا جاتا ہے۔ اس کردار نے ثابت کیا کہ زیبا صرف رومانوی کرداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر طرح کے پیچیدہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی اداکاری میں ایک فطری انداز تھا، جو ناظرین کو کردار کے ساتھ جوڑ دیتا تھا۔ زیبا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا، جن میں نگار ایوارڈز شامل ہیں، جو پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک معتبر اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ زیبا نے نہ صرف اداکاری میں بلکہ سماجی خدمات میں بھی حصہ لیا، اور وہ مختلف فلاحی کاموں سے وابستہ رہیں۔ ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا سے ایک حد تک دور رکھا اور اپنی عزت و وقار کو برقرار رکھا۔ ان کے شوہر محمد علی کے انتقال کے بعد زیبا نے عملی طور پر فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مگر ان کی یادگار فلمیں اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔ زیبا کی شخصیت پاکستانی فلمی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جنہوں نے نہ صرف اپنے فن سے لوگوں کے دل جیتے بلکہ ایک مثال قائم کی کہ کس طرح ایک فنکار اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ آج بھی جب پاکستانی فلموں کی تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو زیبا کا نام بڑے احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے،
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio