"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر ب

"اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔۔" ایک عہدِ تاریک کا آئینہ ہے ۔ جس میں ایک دور اپنی تمام تر بھیانک شبہیوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ بھٹو مرحوم یہ کتاب لکھتے ہوئے کس کرب سے گزر رہے ہوں گے۔ لکھنے پڑھنے کی سہولتوں کے فقدان کے باوجود انہوں نے یہ کتاب جس انداز میں لکھی ہے ۔ یہ اپنی جگہ بڑا اہم کارنامہ ہے۔ بھٹو مرحوم اپنے ہی الفاظ کے مطابق ہمیشہ سے ایک شاعر اور انقلابی تھے یہ کتاب اس کا طرزِ اسلوب ، اس کی نثر ثابت کرتے ہیں کہ بھٹو واقعی ایک شاعر اور انقلابی ہے۔ اس کتاب میں شعریت اور انقلاب کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ طرزِ اسلوب ۔ کسی مصنف کی اصل پہچان اور روح ہوتا ہے۔ اس میں انفرادیت حاصل کرنا ۔ سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ بھٹو مرحوم اس کتاب کی نثر اور طرزِ اسلوب کے حوالے سے اس کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ یہ کتاب پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین دور کا تجزیہ ہے۔ اس سازش کا قصہ ہے جس نے ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس میں ہمیں بہت سے چہرے دکھائی دیتے ہیں وہ چہرے جو اب بساطِ ہستی سے غائب ہو چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں۔ جن کا مطالعہ لرزا دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کو ضیا الحق کے دور میں اس لئے بڑی سختی سے دبایا گیا کہ بھٹو مرحوم نے جو انکشافات کئے تھے اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا تھا اس کتاب میں بھٹو کی نابغیت پوری شان سے جھلکتی ہے۔ ان علم تجربہ، بے پناہ حافظہ اور بات کہنے کا اسلوب پورے عروج پر ملتا ہے ایک قانون دان اور عظیم عوامی سیاست دان کی حیثیت سے بھی یہ کتاب ان کا روشن پہلو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ یہ کتاب ان کی بے پناہ ذہانت اور ذکاوت، ملک عوام کے ساتھ درد مندی کا ظاہر
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio