AchirdUse these settings →
میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر کسی پر آپ کو اعتماد کرنا چاہئے تو وہ صرف ناجی ہے۔ اس نے پوچھا کہ تم کس طرح اُسے جانتی ہو۔ میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ہیں۔ ہمارے گھر گئے تھے اور میرے باپ سے کہتے تھے کہ میں صلاح الدین ایوبی کا غلام ہوں ۔ مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو کود جاؤں گا .... پھر اُس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ہو۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی لونڈی ہوں۔ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر پھر اُس نے کہا۔ میرے پاس بیٹھو۔ میں اس کے پاس بیٹھ گئی ۔ پھر وہ اگر پتھر تھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا۔ اُس سے رخصت ہونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ۔ کہنے لگا۔ میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ہے ۔ میں نے کہا ۔ یہ گناہ نہیں ۔ آپ نے میرے ساتھ دھو کہ نہیں کیا ۔ زبردستی نہیں کی ۔ مجھے بادشاہوں کی طرح حکم دے کر نہیں بلایا ۔ میں خود آئی تھی ۔ پھر بھی آؤں گی ۔ لڑکی نے ہر ایک بات اس طرح کھل کر سنائی جس طرح اس کا جسم عریاں تھا۔ ناجی نے جوش مسرت سے اُسے اپنے بازوؤں میں لے لیا ۔ اوروش ذوکوئی کو خراج تحسین اور ناجی کو مبارکباد پیش کر کے خیمے سے نکل گیا ۔ صحرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائی صبح سے مختلف نہیں تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا خواب صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لے کر جوان ہوا تھا۔ گذشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ہوا اس کے دو پہلو تھے ۔ ایک پہلو سے صرف ناجی اور اوروش واقف تھے ۔دوسرے پہلو سے صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ واقف تھا اور صلاح الدین ایوبی ، اُس کا سراغرساں اور جاسوس علی بن سفیان اور ذوکوئی ، تین ایسے افراد تھے جو اس واقعہ کے دونوں پہلوؤں سے واقف تھے ۔ صلاح الدین ایوبی اور اس کے سٹاف کو ناجی نے نہایت شان و شوکت اور عقیدت مندی سے رخصت کیا۔ سوڈانی فوج دو رویہ کھڑی " صلاح الدین ایوبی زندہ باد کے نعرے لگا رہی تھی۔ صلاح الدین ایوبی نے نعروں کے جواب میں بازو ہلانے، مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پروا نہ کی ۔ ناجی سے ہاتھ ملایا۔ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا دی ۔ اس کے پیچھے اس کے محافظوں اور دیگر سشاف کو بھی گھوڑے دوڑانے پڑے
0:00 / 0:00