بکھری ہوئی معلومات اور منظم نظام کا فقدان کراچی میں ایک ڈیلر اوسطاً روزانہ بیس سے پچی

بکھری ہوئی معلومات اور منظم نظام کا فقدان کراچی میں ایک ڈیلر اوسطاً روزانہ بیس سے پچیس واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیجز پر سینکڑوں پوسٹس دیکھتا ہے۔ یہ معلومات نہ کہیں محفوظ ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی ترتیب میں ہوتی ہیں۔ جب کوئی کلائنٹ فون کر کے مخصوص پراپرٹی کے بارے میں پوچھتا ہے تو ڈیلر کے پاس فوری جواب موجود نہیں ہوتا—اسے کہنا پڑتا ہے: "معلوم کر کے بتاتا ہوں"، اور اکثر اسی ایک جملے میں ڈیل ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ خیال یہ ہے کہ اس موضوع پر زیادہ کچھ کہنا ضروری نہیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے: "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا"—اس وقت جو محدود کام دستیاب ہے، وہ زیادہ تر سوشل میڈیا پر ہی ملتا ہے۔ تقریباً ہر اسٹیٹ ایجنٹ واٹس ایپ اور فیس بک گروپس میں شامل ہے، اور ایک دو نہیں بلکہ متعدد گروپس کا حصہ ہوتا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں انوینٹریز آتی رہتی ہیں جنہیں مکمل طور پر دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان گروپس میں انوینٹریز کے بارے میں ایک مشہور جملہ بھی گردش کرتا ہے کہ "یہ ریڑھی کا مال ہوتا ہے، اور سب کی نظروں میں ہوتا ہے” سب کی نظروں میں یہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا آپ کی نظر میں ہے۔ جس طرح آپ ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہے، اسی طرح دوسروں کی صورتِ حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں اسی ریڑھی کے مال میں سے بہتر اور معیاری مواقع کی چھانٹی بھی کی جا سکتی ہے۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio