اُن بادلوں کے بیچ پیارے ننھے گھر میں رہتی تھی… ایک نہایت خوبصورت بڑی بڑی نیلی آنکھوں

اُن بادلوں کے بیچ پیارے ننھے گھر میں رہتی تھی… ایک نہایت خوبصورت بڑی بڑی نیلی آنکھوں والی ایک پراسرار پری… جس کا نام تھا دعا رانی دعا عام پریوں جیسی نہیں تھی۔ اس کے پاس ایک ایسی قدرتی طاقت تھی… جو کسی کے دل کی سب سے چھپی ہوئی خواہش دیکھ سکتی تھی اور قدرت کے اس دی گئی طاقت سے اس کی خواہش کو پورا کر سکتی تھی جب کوئی ننھا منا پاک دل والا معصوم بچہ یا سچے دل والا انسان زمین پر کھڑا ہو کر اسمان پر نیلے چمکتے تارے کو دیکھتا اور اپنی خواہش کا اظہار کرتا تو دعا اس کی خواہش کو پل بھر میں پورا کر دیتی دعا مانگنے والے کے ہاتھوں میں اگر سرخ گلاب گر جائے تو اس کی وش پوری ہو جاتی تھی لیکن اُس قدرتی طاقت کے ساتھ ایک خوفناک راز بھی جڑا تھا… جو دعا رانی کو اکثر اداس رکھتا تھا ہر سو سال بعد… بادلوں کی دنیا سے ایک “سیاہ سایہ” نکلتا… اور اُس جادوئی جزیرے کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا۔ اور دعا رانی کی اس قدرتی طاقت کو چھیننا چاہتا تھا اور اب… وہ وقت دوبارہ قریب آ رہا تھا۔ اسی لیے دعا ہر وقت بے چین رہتی تھی ایک رات… آسمان پر تین گلابی چاند نمودار ہوئے۔ ہوا اچانک ٹھنڈی ہوگئی۔ جھولا خود بخود زور زور سے ہلنے لگا۔ دعا رانی گھبرا کر باہر نکلی۔ اچانک آسمان سے چمکتے ہوئے سفید پرندے نیچے اترے… اور اُن میں سے ایک پرندہ انسان کی آواز میں بولا: “دعا…وہ وقت پھر آ گیا ہے… سیاہ سایہ واپس آ رہا ہے…”
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio