CharonUse these settings →
بیلاروس، یوکرین اور ایک چھوٹا سا جزیرہ جو روس سے دور ہے جس کا نام کالینن گراڈ ایکسکلیو ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی سرحد پولینڈ اور لیتھوانیا سے بھی لگتی ہے۔ دوسری طرف جارجیا، آذربائیجان، قازقستان، منگولیا، چین اور شمالی کوریا بھی لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ کیسپین کی طویل ساحلی پٹی بھی واقع ہے۔ روس کی کل آبادی 14 کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں نویں نمبر پر آتا ہے۔ روس دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آتا ہے۔ امریکہ کی روس پر پابندیوں کے باوجود یہ دنیا کی نویں بڑی معیشت رکھتا ہے۔ جس کی جی ڈی پی 2.5 ٹریلین ہے اور یہاں کے لوگوں کی سالانہ آمدنی $15,000 کے قریب ہے۔ روس میں استعمال ہونے والی کرنسی روبل ہے جو پاکستانی 3.47 روپے کے برابر ہے۔ جبکہ بھارتی کرنسی اور روسی روبل تقریباً برابر ہیں۔ دنیا کے اس بڑے ملک کی خاصیت ہے کہ اس کے 11 ٹائم زون ہیں۔ یعنی ماسکو میں اگر دن ہو رہا ہوتا ہے تو ملک کے آخری حصے میں رات ہو رہی ہوتی ہے۔ روس کی شرح خواندگی 99.7 فیصد ہے۔ یعنی پورا ملک پڑھا لکھا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان سے بہت سے بچے اس ملک میں پڑھنے کے لیے بھی جاتے ہیں۔ اس ملک میں زیادہ تر تعلیم مفت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے۔ اسی طرح طبی نظام بھی پورے یورپ سے بہتر ہے اور مفت علاج کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ روس میں بہت سے مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہاں تک کہ روس کی بہت سی مسلم ریاستیں بھی ہیں۔ جن میں چیچنیا، داغستان اور تاتارستان وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن روس میں سب سے بڑا مذہب روسی آرتھوڈوکس عیسائیت ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندو، مسلم، کیتھولک، یہودی
0:00 / 0:00