Classic
Use these settings →2026-03-08
پھر ہفتے گزر گئے… پھر مہینے… اور پھر سال بھی گزر گئے۔ لیکن عائشہ کبھی واپس نہیں آئی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ شاید شہر میں بس گئی ہے… کچھ کہتے تھے شاید وہ کسی اور ملک چلی گئی ہے۔ لیکن حارث نے کبھی یقین نہیں کیا۔ وہ روز پانچ بجے اسی بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا۔ وہ ہر آنے والی ٹرین کو اسی امید سے دیکھتا کہ شاید آج دروازہ کھلے… اور عائشہ مسکراتے ہوئے باہر آ جائے۔ بوڑھا شخص خاموشی سے یہ سب سنتا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے پوچھا: “اگر وہ واقعی کبھی واپس نہ آئی تو؟” حارث نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: “پھر بھی کوئی بات نہیں… کم از کم میرا انتظار سچا تو رہے گا۔” اسی لمحے دور سے ٹرین کی آواز آئی۔ ٹرین آہستہ آہستہ اسٹیشن پر آ کر رکی۔ دروازے کھلے… لوگ اترنے لگے… حارث کی نظریں ہر چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ مگر اس دن بھی… عائشہ نہیں آئی۔ ٹرین دوبارہ سیٹی دے کر چل پڑی۔ گرد و غبار پٹریوں پر پھیل گیا۔ حارث خاموشی سے بینچ سے اٹھا اور آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے بولا: “شاید آج نہیں… مگر میں کل پھر آؤں گا۔” بوڑھا شخص اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اور اس دن اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ دنیا کی سب سے عجیب چیز کیا ہے… وہ ہے سچا انتظار۔ کیونکہ سچا انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا… چاہے انسان تھک جائے… مگر امید نہیں مرتی۔
ID: e0d92cf2-25fa-45de-b12c-b7e00270d292
Created: 2026-03-08T11:37:12.136Z