بیٹا، جو بھی ہو، کبھی جھوٹ مت بولنا۔" راستے میں اسے ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے روک لیا۔ ان

بیٹا، جو بھی ہو، کبھی جھوٹ مت بولنا۔" راستے میں اسے ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے روک لیا۔ انہوں نے سب مسافروں کو لوٹ لیا۔ جب وہ علی کے پاس آئے تو ایک ڈاکو نے پوچھا: "تمہارے پاس کیا ہے؟" علی نے بغیر ڈرے کہا: "میرے پاس 10 سونے کے سکے ہیں۔" ڈاکو ہنسنے لگے اور اسے مذاق سمجھا، مگر وہ اسے اپنے سردار کے پاس لے گئے۔ سردار نے بھی وہی سوال پوچھا، اور علی نے پھر سچ بتایا۔ سردار حیران ہوا اور پوچھا: "تم نے سچ کیوں بولا؟ تم بچ سکتے تھے!" علی نے جواب دیا: "میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہے کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں اس وعدے کو نہیں توڑ سکتا۔" یہ سن کر ڈاکو سردار کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا: "یہ بچہ اپنی ماں کا وعدہ نہیں توڑ رہا، اور ہم اللہ کے احکام توڑ رہے ہیں!" اسی وقت اس نے توبہ کی اور اپنے ساتھیوں کو بھی برائی چھوڑنے کا حکم دیا

More Urdu Voice Samples

chirp3-hd:Kore

بیٹا، جو بھی ہو، کبھی جھوٹ مت بولنا۔" راستے میں اسے ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے روک لیا۔ ان

بیٹا، جو بھی ہو، کبھی جھوٹ مت بولنا۔" راستے میں اسے ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے روک لیا۔ انہوں نے سب مسافروں کو لوٹ لیا۔ جب وہ

chirp3-hd:Kore

"بیٹا، ہمیشہ سچ بولنا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔" ایک دن علی شہر جانے لگا تاکہ کچھ کما

"بیٹا، ہمیشہ سچ بولنا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔" ایک دن علی شہر جانے لگا تاکہ کچھ کما سکے۔ اس کی ماں نے اس کے کپڑوں میں

chirp3-hd:Kore

"بیٹا، ہمیشہ سچ بولنا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔" ایک دن علی شہر جانے لگا تاکہ کچھ کما

"بیٹا، ہمیشہ سچ بولنا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔" ایک دن علی شہر جانے لگا تاکہ کچھ کما سکے۔ اس کی ماں نے اس کے کپڑوں میں

gemini-2.5-pro-tts:Achird

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہی

وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اس کا مذہب کیا تھا۔ وہ مسلمان نہیں تھی ، عیسائی بھی نہیں تھی ۔ جیسا

Classic

“Raat ke 11:47 baj rahe thay

“Raat ke 11:47 baj rahe thay. Flight PK-742, 30,000 feet par” “Cabin mein halki si roshni thi. Log so rahe thay.” “Aariz

onyx

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change every

The hearing begins with the defense attorney making a request that could change everything. The attorney asks the judge

← Return to Studio