صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی ک

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ بپا کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے ۔ زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا۔ ناجی اپنی کامیابی پر بے حد مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی۔ نصف شب کے بعد صلاح الدین ایوبی اس خوش نما خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے اس کے لیے نصب کرایا تھا ۔ اندر اس نے قالین بچھا دیئے تھے۔ پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوش تھا ۔ فانوس جو رکھوا یا تھا ، اس کی ہلکی نیلی روشنی صحرا کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی، خیمے کے اندر ریشمی پر دے آویزاں تھے ۔ ناجی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں گیا اور پوچھا " اُسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دوں ؟ میں وعدہ خلافی سے بہت ڈرتا ہوں ۔ بھیج دو یہ صلاح الدین ایوبی نے کہا اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے نکل گیا ۔ تھوڑا ہی وقت گزرا ہو گا کہ صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اس کے خیمے کی طرف آتے دیکھا۔ خیمے کے ہر طرف مشعلیں روشن تھیں ۔ روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا تا کہ رات کے وقت محافظ گرد و پیش کو اچھی طرح دیکھ سکیں ۔ رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔ انہوں نے اُسے رقص میں دیکھا تھا۔ یہ وہی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی ۔ وہ ذوکوئی تھی۔ وہ رقص کے لباس میں تھی ۔ یہ لباس تو بے شکن تھا ۔ اس میں وہ عریاں تھی ۔ محافظوں کے کمانڈر نے اُسے روک لیا۔ اس نے اسے بتایا اُسے امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے بلایا ہے ۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نہیں جو تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارتے ہیں ۔ "آپ اُن سے پوچھ لیں" ذوکوئی نے کہا۔ میں بن بلائے آنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ ان کا بلاوا تمہیں کس طرح ملا تھا؟ کمانڈر نے پوچھا۔ سالار ناجی نے کہا ہے کہ تمہیں امیر مصر بلاتے ہیں۔ ذوکوئی نے کہا۔ آپ کہتے ہیں تو میں واپس چلی جاتی ہوں ۔امیر نے جواب طلبی کی تو خود بھگت لینا۔ کمانڈر تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ صلاح الدین ایوبی نے اپنی خواب گاہ میں ایک رقاصہ کو بلایا ہے۔ وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا۔ اس کے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو ایک سو درے لگائے جائیں گے ۔ کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا

More Urdu Voice Samples

gemini-2.5-pro-tts:Achird

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا تھا۔ کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ با

gemini-2.5-pro-tts:Achird

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا تھا۔ کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ با

gemini-2.5-pro-tts:Achird

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر ت

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر تھا۔ جب ذوکوئی صلاح الدین ایوبی کے خ

gemini-2.5-pro-tts:Achird

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر ت

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر تھا۔ جب ذوکوئی صلاح الدین ایوبی کے خ

gemini-2.5-pro-tts:Achird

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی ک

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ بپا کر

gemini-2.5-pro-tts:Achird

میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر کسی پر آپ کو اعتماد کرنا چاہئے تو وہ صرف ناجی ہے۔ اس ن

میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر کسی پر آپ کو اعتماد کرنا چاہئے تو وہ صرف ناجی ہے۔ اس نے پوچھا کہ تم کس طرح اُسے جانتی ہو۔

← Return to Studio