بعض پرانے افسروں نے اسے ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں طنز تھی اور تمسخر بھی تھا۔ وہ صلاح الدین ایوبی کے صرف نام سے واقف تھے یا اُس کے متعلق یہ جانتے تھے کہ وہ حکمران خاندان کا فرد اور اپنے چا کا جانشین ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ نورالدین زنگی کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے ۔ ان کی نگاہوں میں صلاح الدین ایوبی کی اہمیت بس اس کے خاندان کی بدولت تھی یا اس وجہ سے انہوں نے اسے اہمیت دی کہ وہ مصر کا قومی وائسرائے بن کے آیا تھا ۔ اس کے سوا انہوں نے صلاح الدین ایوبی کو کوئی وقعت نہ دی ۔ ایک بوڑھے افسر نے اپنے ساتھ کھڑے انسر کے کان میں کہا۔ بچہ ہے ۔ اسے ہم پال لیں گے : موتخ اور اُس وقت کے وقائع نگار یہ نہیں بنا سکتے کہ صلاح الدین ایوبی نے ان لوگوں کی نظریں بھانپ لی تھیں یا نہیں۔ وہ استقبال کرنے والے اس ہجوم میں بچہ لگ رہا تھا۔ البتہ جب دہ ناجی کے سامنے مصافحہ کے لئے رکا تو ایوبی کے چہرے پر تبدیلی سی آگئی تھی ۔ وہ ناجی سے ہاتھ ملانا چاہتا تھا لیکن ناجی جو اس کے باپ کی عمر کا تھا . سب سے پہلے درباری خوشامدیوں کی طرح جھکا۔ پھر ایوبی سے بغل گیر ہو گیا۔
Use these settings →2026-03-31
c213d81d-ec86-4dcf-827c-e15888d9f37d
ID: 86a519c7-ab07-4704-9efb-16a92819f761
Created: 2026-03-31T02:38:40.616Z