ناجی اس کے چہرے اور قد کاٹھ کی دلکشی دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔ وہ عورتوں کا شکاری تھا ۔ اُسے عورتیں صرف اپنی عیاشی کے لئے درکار نہیں ہوتی تھیں ۔ ان سے وہ اور بھی کئی کام لیا کرتا تھا جن میں ایک یہ تھا کہ وہ نہایت خوبصورت اور عیار لڑکیوں کے ذریعے بڑے بڑے افسروں کو اپنی مٹھی میں رکھتا تھا اور ایک کام یہ بھی تھا کہ دہ انہیں امیروں وزیروں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور ان سے وہ جاسوسی بھی کراتا تھا۔ جس طرح قصاب جانور کو دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ اُس کا گوشت کتنا ہے ، اسی طرح ناجی لڑکی کو دیکھ کر اندازہ کرلیا کرتا تھا کہ کس کام کے لیے موزوں ہے ۔ لڑکیوں کے ہیو پاری اور بردہ فروش اکثر ناجی کے پاس مال، لاتے رہتے تھے۔ یہ آدمی بھی ایسے ہی بیوپاریوں میں سے لگتا تھا ۔ لڑکی کے متعلق اُس نے بتایا کہ تجربہ کار ہے ۔ ناچ بھی سکتی ہے اور پتھر کو زبان کے میٹھے زہر سے پانی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ناجی نے اس کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ اس فن کا ماہر تھا۔ اس کے مطابق اس نے لڑکی کا امتحان لیا اور اس نے یہ رائے قائم کی کہ جس کام کے لیے وہ ایک اور لڑکی کو تیار کر رہا تھا ؟ لڑکی تھوڑی سی ٹرینگ کے بعد موزوں ہو سکتی ہے۔ سودا طے ہو گیا۔ ہیوپاری قیمت وصول کرکے چلا گیا۔ ناجی لڑکی کو اس کمرے میں لے گیا جہاں اس کے دو ساتھی رقص اور شراب سے دل بہلا رہے تھے۔
Use these settings →2026-04-04
9afa0578-08ab-4f65-8bde-06e645ab4624
ID: bae9f8af-3222-45ad-8215-97b9a3610425
Created: 2026-04-04T04:30:50.789Z