Achird
Use these settings →2026-04-10
صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ بپا کر رہے تھے وہ بھی جیسے مر گئے تھے ۔ زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا۔ ناجی اپنی کامیابی پر بے حد مسرور تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی۔ نصف شب کے بعد صلاح الدین ایوبی اس خوش نما خیمے میں داخل ہوا جو ناجی نے اس کے لیے نصب کرایا تھا ۔ اندر اس نے قالین بچھا دیئے تھے۔ پلنگ پر چیتے کی کھال کی مانند پلنگ پوش تھا ۔ فانوس جو رکھوا یا تھا ، اس کی ہلکی نیلی روشنی صحرا کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی، خیمے کے اندر ریشمی پر دے آویزاں تھے ۔ ناجی صلاح الدین ایوبی کے ساتھ خیمے میں گیا اور پوچھا " اُسے ذرا سی دیر کے لیے بھیج دوں ؟ میں وعدہ خلافی سے بہت ڈرتا ہوں ۔ بھیج دو یہ صلاح الدین ایوبی نے کہا اور ناجی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا خیمے سے نکل گیا ۔ تھوڑا ہی وقت گزرا ہو گا کہ صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اس کے خیمے کی طرف آتے دیکھا۔ خیمے کے ہر طرف مشعلیں روشن تھیں ۔ روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا تا کہ رات کے وقت محافظ گرد و پیش کو اچھی طرح دیکھ سکیں ۔ رقاصہ قریب آئی تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔ انہوں نے اُسے رقص میں دیکھا تھا۔ یہ وہی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی ۔ وہ ذوکوئی تھی۔ وہ رقص کے لباس میں تھی ۔ یہ لباس تو بے شکن تھا ۔ اس میں وہ عریاں تھی ۔ محافظوں کے کمانڈر نے اُسے روک لیا۔ اس نے اسے بتایا اُسے امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے بلایا ہے
ID: 829f78d2-07c9-492c-96c1-536abf68ca32
Created: 2026-04-10T07:24:24.163Z