تصور کریں… جو کام آپ آج گھنٹوں میں کرتے ہیں، وہی کام ایک مشین چند سیکنڈز میں کر دے۔ ا

تصور کریں… جو کام آپ آج گھنٹوں میں کرتے ہیں، وہی کام ایک مشین چند سیکنڈز میں کر دے۔ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے… کیا پاکستان اور بھارت میں آپ کی نوکری آنے والے پانچ سالوں میں محفوظ ہے؟ مصنوعی ذہانت یعنی ایسی مشینیں اور نظام جو انسان کی طرح سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ یہ صرف روبوٹ نہیں بلکہ ڈیٹا سے سیکھنے والے نظام ہیں۔ عالمی تحقیق کے مطابق دو ہزار تیس تک دنیا کے تقریباً تیس فیصد کام خودکار ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ نوکریاں متاثر ہوں گی جن میں بار بار ایک جیسے کام ہوتے ہیں، جیسے ڈیٹا درج کرنا، کسٹمر سپورٹ، بنیادی حساب کتاب، ٹیلی مارکیٹنگ اور سادہ مواد کی تیاری۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق آنے والے پانچ سالوں میں تقریباً چوالیس فیصد افراد کو اپنی مہارتیں بدلنی پڑیں گی۔ مسئلہ نوکری ختم ہونے کا نہیں بلکہ مہارتیں بدلنے کا ہے۔ دوسری طرف مصنوعی ذہانت نئی نوکریاں بھی پیدا کر رہی ہے، جیسے مصنوعی ذہانت کے ماہر، خودکار نظام کے ماہر، ڈیٹا تجزیہ کار اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ماہر۔ اندازاً انہتر ملین نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں نوجوان آن لائن فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات سے وابستہ ہیں، اور یہ رجحان مزید بڑھ رہا ہے۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مصنوعی ذہانت سے مقابلہ نہیں کرتے بلکہ اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نوکریاں ختم نہیں کر رہی بلکہ ان لوگوں کو بدل رہی ہے جو خود کو اپڈیٹ نہیں کر رہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ آپ اس تبدیلی کا حصہ بنیں گے یا نہیں۔
0:00 / 0:00
← Return to Studio