تو جل پریوں کی پوری سلطنت تباہ ہو سکتی ہے… جس میں تمہارے ماں باپ بھی مارے جا سکتے ہیں۔"** نیلم پری چونک گئی۔ کیونکہ نیلا موتی زمرد نگر کی سب سے طاقتور چیز تھی۔ وہی سمندر کی لہروں، جادوئی مخلوقات اور پوری سلطنت کی طاقت کا راز تھا۔ جادوگرنی یہ باتیں کہہ کر غائب ہو گئی… اور نیلم پری کو ایک اور بڑی مشکل میں ڈال گئی۔ ادھر وزیر روز اُس سے زمرد نگر کا راز پوچھتا… مگر نیلم خاموش رہتی۔ دن گزرتے گئے… ایک… دو… تین… اور پھر سات دن گزر گئے۔ ساتویں دن کے بعد… نیلم کی تمام جادوئی طاقتیں ختم ہو گئیں۔ وہ ہمیشہ کے لیے ایک عام انسان بن چکی تھی۔ اُس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ وہ خود کو بہت کمزور اور لاچار محسوس کر رہی تھی۔ اب نہ وہ جل پری بن سکتی تھی… نہ سمندر واپس جا سکتی تھی۔ اسی دوران وزیر کی اِس حرکت کا پتہ… سلطنت کے مالک شہزادہ رحمان کو چل گیا۔ جو اِس پوری سلطنت کا مالک تھا اور اپنے والد کے چلے جانے کے بعد وہی حکمران تھا۔ شہزادہ رحمان نہایت نیک دل اور انصاف پسند تھا۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ ایک معصوم لڑکی کو قید رکھا گیا ہے… تو وہ فوراً تہہ خانے پہنچا۔ جیسے ہی اُس نے پہلی بار نیلم کو دیکھا…
0:00 / 0:00