وہ ہر صبح آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بالوں کو دیکھتی… اور خاموش ہو جاتی۔ کنگھی میں روز پہلے سے زیادہ بال نظر آتے تھے۔ نہاتے وقت بال ہاتھوں میں آ جاتے، تکیے پر بال گرے ہوتے، اور ہر بار اس کا دل تھوڑا اور ٹوٹ جاتا۔ اس نے ہر چیز آزما لی تھی۔ مہنگے شیمپو… تیل… ہیئر ماسک… گھریلو ٹوٹکے… مگر بالوں کا گرنا کم نہیں ہو رہا تھا۔ لوگ کہتے، “اتنا بھی کیا سوچنا؟ بال ہی تو ہیں۔” مگر اس کے لیے یہ صرف بال نہیں تھے۔ اس کا اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا۔ وہ تصویریں کھینچنا چھوڑ چکی تھی۔ بال کھولنا چھوڑ دیے تھے۔ ہر وقت بس یہی ڈر رہتا کہ کہیں لوگ اس کے کم ہوتے بال نہ دیکھ لیں۔ ایک دن اس کی دوست نے اس سے پوچھا، “تم ٹھیک سے کھانا کھاتی بھی ہو؟” وہ خاموش ہوگئی۔ صبح صرف چائے… دوپہر میں کچھ بھی نہیں… پانی بہت کم… رات کو جنک فوڈ… اور اوپر سے مسلسل ٹینشن۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ شاید مسئلہ صرف بالوں کا نہیں… اس کے جسم کا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی عادتیں بدلنا شروع کیں۔ صبح ناشتہ… پروٹین والی چیزیں… پھل… زیادہ پانی… کم جنک فوڈ… اور تھوڑا سکون۔ شروع میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ مگر چند ہفتوں بعد… اس کی کمزوری کم ہونے لگی۔ چہرہ بہتر لگنے لگا۔ اور سب سے اہم… بالوں کا گرنا آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ اس دن اس نے آئینے میں خود کو دوبارہ مسکراتے ہوئے دیکھا۔ تب اسے سمجھ آیا… کبھی کبھی ہمارے بال اس لیے نہیں گرتے کہ ہم نے اچھا شیمپو استعمال نہیں کیا… بلکہ اس لیے گرتے ہیں کیونکہ ہمارا جسم خاموشی سے مدد مانگ رہا ہوتا ہے۔ بالوں کی خوبصورتی صرف باہر سے نہیں… اندر سے بھی شروع ہوتی ہے۔
0:00 / 0:00