Free Urdu Text to Speech

"جو تم آج نظر انداز کر رہے ہو۔ کل وہی تمہاری قسمت بدل سکتا ہے۔"

2026-04-09

"جو تم آج نظر انداز کر رہے ہو۔ کل وہی تمہاری قسمت بدل سکتا ہے۔"

ID: c1969a6f-a938-434a-8979-7c34692d97d9

Created: 2026-04-09T14:11:10.043Z

More Shares

6d9b6e6e-bcaa-4ec6-805b-e1ff927aef68

بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ کہے اللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَىٰ عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اے اللہ آپ ہی میرے رب ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ نے مجھے پیدا فرمایا اور میں آپ کا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کے مطابق آپ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں میں اپنے اعمال کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں میں آپ کی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں جو آپ نے مجھ پر کیں اور میں اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں پس مجھے معاف فرما دیں بے شک آپ کے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسے دن میں یقین کے ساتھ پڑھے اور شام سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے اور جو اسے رات کے وقت یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ بھی جنتی ہے صحیح بخاری 6306

"6d9b6e6e-bcaa-4ec6-805b-e1ff927aef68"

dcd709e9-e06f-433d-b782-36faf269cbe7

تصور کریں۔ آپ سمندر کے بیچ میں ہیں۔ آس پاس ہزاروں کلومیٹر تک صرف پانی۔ نیلا پانی۔ گہرا پانی۔ وہ پانی جو آپ کی آنکھیں تو دیکھ سکتی ہیں لیکن دماغ یقین کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ اتنا پانی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی کشتی الٹ چکی ہے۔ آپ نے آخری بار 119 دن پہلے انسان کو دیکھا تھا۔ 119 دن۔ چار ماہ۔ ایک موسم گرما، ایک خزاں، اور آدھا موسم سرما۔ آپ کا وزن آدھا رہ گیا ہے۔ آپ کی ہڈیاں باہر سے نظر آتی ہیں۔ آپ کی جلد ہڈیوں سے چپک گئی ہے۔ آپ کے بال جھڑ چکے ہیں۔ آپ کے دانت ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ آپ کے ساتھی آپ سے نفرت کرتے ہیں۔ چاروں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن وہ ایک دوسرے کے بغیر مر جائیں گے۔ یہ نفرت اور ضرورت کا وہ رشتہ ہے جو صرف جہنم میں بنتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات۔ پوری دنیا کو یقین نہیں کہ آپ زندہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ آپ زندہ ہیں، بلکہ لوگوں کو یقین نہیں کہ آپ کبھی زندہ تھے ہی۔ اخبارات آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔ ٹی وی اینکر آپ پر ہنستے ہیں۔ لوگ آپ کے گھر کے باہر جمع ہو کر پتھر پھینکتے ہیں۔ آپ 119 دن سمندر کی موت سے لڑے۔ اور اب آپ کو اپنے سچ کو ثابت کرنے کے لیے لڑنا ہے۔ یہ ہے 1989 کی وہ کہانی جس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ چار آدمی۔ ایک کشتی۔ 119 دن۔ اور ایک سچ جو آج تک تنازعہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے چار دوستوں کی جو ایک خوبصورت جزیرہ دیکھنے کا خواب پورا کرنے نکلے , لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ دنیا نے ان کو زندہ ماننے سے ہی انکار کر دیا

"dcd709e9-e06f-433d-b782-36faf269cbe7"

← Return to Studio