سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قدیم مصری جادو کو الگ علم نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزد

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قدیم مصری جادو کو الگ علم نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک جادو، مذہب اور science آ پس میں جڑے ہوئے concepts تھے۔ ان کے ہاں جادو کے لیے Heka کا concept موجود تھا، جسے ایک hidden force سمجھا جاتا تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہی طاقت کائنات میں order قائم رکھتی ہے اور انسان بھی مخصوص طریقوں سے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں جادو پر یقین موجود تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنی نشانی پیش کی، تو فرعون نے فوراً پورے مصر سے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کروایا۔ اس کا مقصد صرف ایک تھا: لوگوں کے سامنے موسیٰ علیہ السلام کو challenge کرنا۔ ایک خاص دن مقرر کیا گیا۔ عوام کو بھی جمع کیا گیا تاکہ سب یہ مقابلہ دیکھ سکیں۔ جب مقابلہ شروع ہوا تو جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں، اور دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ حرکت کر رہی ہوں۔ وہ پورے confidence سے بولے کہ کامیابی انہی کی ہوگی۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ دیکھ کر یہی جادوگر سب سے پہلے حقیقت کو سمجھ گئے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ عام جادو نہیں ہو سکتا۔
0:00 / 0:00
← Return to Studio